Meaning of

شق

shak • शक़

شک; شبہ

doubt; suspicion

संदेह; शक

Arabic

ا
گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے
ذرا سی بوندابان
گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے

یہ راہ عشق ہے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں
محبت اڑانی والوں کے ب
سے کی بات تھوڑی ہے

221

Download Image

مجھ سے مت پوچھو کے ا
سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ کیا اچھا ہے
اچھے اچھوں سے مجھے میرا برا اچھا ہے

ک
سے طرح مجھ سے محبت ہے وہ ہے وہ کوئی جیت گیا تو
یہ لگ کہ دینا کے بستر ہے وہ ہے وہ بڑا اچھا ہے

569

Download Image

سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی
دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا

553

Download Image

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی بے وجہ تھا جہان ہے وہ ہے وہ کیا

511

Download Image

کیا خبر کون تھا حقیقت اور میرا کیا لگتا تھا
ج
سے سے مل کر مجھے ہر بے وجہ برا لگتا تھا

444

Download Image

ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے
بدن تو چو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

336

Download Image

مدتوں بعد اک بے وجہ سے ملنے کے لیے
آئی
لگ دیکھا گیا تو بال سنواردے گئے

314

Download Image

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں
حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں
عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مگر
یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں

307

Download Image

ہوا ہی کیا جو حقیقت ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ملا نہیں
بدن ہی صرف ایک راستہ نہیں

یہ پہلا عشق ہے تمہارا سوچ لو
مری لیے یہ راستہ نیا نہیں

300

Download Image

ہم کو نیچے اتار لیں گے لوگ
عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے

230

Download Image

ا
گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے
ذرا سی بوندابان
گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے

یہ راہ عشق ہے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں
محبت اڑانی والوں کے ب
سے کی بات تھوڑی ہے

221

Download Image

مجھ سے مت پوچھو کے ا
سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ کیا اچھا ہے
اچھے اچھوں سے مجھے میرا برا اچھا ہے

ک
سے طرح مجھ سے محبت ہے وہ ہے وہ کوئی جیت گیا تو
یہ لگ کہ دینا کے بستر ہے وہ ہے وہ بڑا اچھا ہے

569

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'شق' غیر یقینی یا بے اعتمادی کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو اپنایا ہے تاکہ اعتماد اور شک کے درمیان نازک توازن کو تلاش کیا جا سکے، اکثر اس جذباتی ہلچل کو اجاگر کرتے ہوئے جو شک سے پیدا ہوتی ہے۔

شاعر 'شق' کا استعمال محبت اور دھوکہ دہی کے موضوعات میں گہرائی سے جانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر ان اشعار میں ظاہر ہوتا ہے جو تعلقات کی نازکیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ لفظ الجھن کے درمیان وضاحت کی خواہش کو بیدار کر سکتا ہے۔

شاعری میں، 'شق' دل کے اندرونی تنازعات کی عکاسی کرنے والا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ یقین اور شک کے درمیان نازک رقص کی یاد دہانی ہے۔