Meaning of

شرارہ

sharaara • शरारा

شرارہ; جھلک

spark; glimmer

चिंगारी; झलक

Arabic

یہ عشق آگ ہے اور حقیقت بدن شرارہ ہے
یہ سرد برف سا لڑکا پگھلنے والا ہے

5

Download Image

کرتی ہے تو کرنے دے ہواؤں کو شرارت
موسم کا تقاضا ہے کہ بالوں کو کھلا چھوڑ

62

Download Image

اب کے ساون ہے وہ ہے وہ شرارت یہ مری ساتھ ہوئی
میرا گھر چھوڑ کے کل شہر ہے وہ ہے وہ برسات ہوئی

47

Download Image

لگا آگ پانی کو دوڑے ہے تو
یہ گرمی تیری ا
سے شرارت کے بعد

28

Download Image

ا
سے سے پہلے کہ ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ زاد شرارت کر جائیں
ہم ستاروں نے یہ سوچا ہے کہ ہجرت کر جائیں

دولت خواب ہمارے جو کسی کام لگ آئی
اب کسی کو نہیں ملنے کی وصیت کر جائیں

20

Download Image

محبت اور بھی زیادہ حسین ہوں جائے سمجھے پریت
ا
گر نادانیاں اپنی شرارت ہے وہ ہے وہ بدل جائیں

18

Download Image

تیرا ب
سے نام سن کر کے اچھل
لگ یاد آتا ہے
تیری چاہت ہے وہ ہے وہ مجھ کو جاں پگھلنا یاد آتا ہے

کبھی جب ذکر ہوتا ہے شرارت کی مری جانم
تری گالوں کو ہاتھوں سے مسلنا یاد آتا ہے

15

Download Image

مری حق ہے وہ ہے وہ حقیقت عبادت بھی کرتی ہے
مجھ سے حقیقت بے حد محبت بھی کرتی ہے

جو کبھی آف
سے سے ہم لوٹے دیر سے
تو حقیقت چوکھٹ پر شرارت بھی کرتی ہے

9

Download Image

ہے وہ ہے وہ دل کو سخت کر کے ا
سے گلی جا تو رہا ہوں دوست
کروں گا کیا ا
گر حقیقت ہی شرارت پر اتر آیا

9

Download Image

شرارت نزاکت ملاحت ادائیں
تری حسن ہے وہ ہے وہ ہم نے کیا کیا لگ دیکھا

8

Download Image

یہ عشق آگ ہے اور حقیقت بدن شرارہ ہے
یہ سرد برف سا لڑکا پگھلنے والا ہے

5

Download Image

کرتی ہے تو کرنے دے ہواؤں کو شرارت
موسم کا تقاضا ہے کہ بالوں کو کھلا چھوڑ

62

Download Image

'شرارہ' لفظ ایک عارضی چنگاری کی تصویر پیش کرتا ہے، ایک لمحاتی جھلک جو کچھ بڑا بھڑکا سکتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر الہام کی پیدائش یا اچانک اٹھنے والے جذبے کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'شرارہ' کا استعمال ان عارضی لمحوں کے جوہر کو پکڑنے کے لیے کرتے ہیں جو تبدیلی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ حسن اور خواہش کی عارضی نوعیت کی بھی نمائندگی کر سکتا ہے۔

الفاظ کے رقص میں، 'شرارہ' ہمیں مختصر ملاقاتوں میں موجود طاقت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ہماری تخلیقی آگ کو روشن کرنے والی چنگاریوں کا ثبوت ہے۔