Meaning of

شکوے

shiqwe • शिक़वे

شکایات; گلے

complaints; grievances

शिकायतें; गिले

Arabic

غم نے ہم کو یہی سکھایا ہے
ننگے پیروں ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ چلایا ہے

سارے شکوے گلے بھلا دیں گے
آج ا
سے نے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بلایا ہے

5

Download Image

فون بھی آیا تو شکوے کے لیے
پھول بھی بھیجا تو مرجھایا ہوا

راستے کی مشکلیں تو جان لوں
آتا ہوگا ا
سے کا ٹھکرایا ہوا

79

Download Image

فون بھی آیا تو شکوے کے لیے
پھول بھی بھیجا تو مرجھایا ہوا

48

Download Image

گلے شکوے ضروری ہیں ا
گر سچی محبت ہے
ج
ہاں پانی بے حد گہرا ہوں تھوڑی کائی رہتی ہے

48

Download Image

چلے بھی آؤ بھلا کر سبھی گلے شکوے
برسنا چاہیے ہولی کے دن وصال کا رنگ

47

Download Image

سمے وفا حق آنسو شکوے جانے کیا کیا مانگ رہے تھے
ایک سہولت کے رشتے سے ہم ہی زیادہ مانگ رہے تھے

ا
سے کی آنکھیں ا
سے کی باتیں ا
سے کے لب حقیقت چہرہ ا
سے کا
ہم ا
سے کی ہر ایک ادا سے اپنا حصہ مانگ رہے تھے

39

Download Image

سنے جاتے لگ تھے جاناں سے مری دن رات کے شکوے
کفن سرکاؤ مری بے زبانی دیکھتے جاؤ

18

Download Image

شکوے ہیں شانے ہیں خوشی و گریہ ہے
جاناں نا ہوں تو پھروں تو ساری دنیا ہے

11

Download Image

क्यूँँ हिज्र के शिकवे करता है क्यूँँ दर्द के रोने रोता है
अब इश्क़ किया तो सब्र भी कर इस में तो यही कुछ होता है

9

Download Image

تھال ہے وہ ہے وہ ہم کو ملے رشتوں کے شکوے اور گلے
ذائقے ہے وہ ہے وہ عشق کا ہی ب
سے نوالا رہ گیا تو

7

Download Image

غم نے ہم کو یہی سکھایا ہے
ننگے پیروں ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ چلایا ہے

سارے شکوے گلے بھلا دیں گے
آج ا
سے نے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بلایا ہے

5

Download Image

فون بھی آیا تو شکوے کے لیے
پھول بھی بھیجا تو مرجھایا ہوا

راستے کی مشکلیں تو جان لوں
آتا ہوگا ا
سے کا ٹھکرایا ہوا

79

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'شکوے' شکایات یا گلے شکوے کے اظہار کی عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ان کہی تکالیف اور سمجھ کی خواہش کے جذباتی بوجھ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ لفظ عدم اطمینان کے اظہار اور مصالحت کی امید کے درمیان نازک توازن کو پکڑتا ہے۔

شاعر اکثر 'شکوے' کا استعمال نامکمل خواہشات اور جذباتی فاصلے کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ لفظ جدائی کے درد اور تعلق کی خواہش کے ساتھ گونجتا ہے۔ 'شکر' جیسے الفاظ کے ساتھ اس کا تضاد انسانی جذبات کی پیچیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'شکوے' خاموشی اور اظہار کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے۔ یہ قاری کو ان کہی باتوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔