Meaning of

سیغہ

siga • सीग़ा

صورت; ساخت; انداز

form; structure; style

रूप; संरचना; शैली

Arabic

بنا ہے سگریٹوں کا ایسا آشیاں دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کہ دھڑکنوں سے زیادہ ہے اب دھواں دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تمام عمر ر
ہوں گا ہے وہ ہے وہ ا
سے کے اندر قید
تمام عمر رہے گا ترا مکان دل ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

درد مارے ہے ایسے کش پہ کش
جسم جلتا سگار ہوں چنو

4

Download Image

ہیں یہ ہونٹ میرے پڑے ہیں سوکھے کئی دنوں کئی رات سے
تجھے چھوڑ کر یہ طلب ہوئی کے ذرا لبوں ہے وہ ہے وہ سگار لوں

2

Download Image

آگ سینے ہے وہ ہے وہ ہے لگی مری
پھروں سگارے ہے وہ ہے وہ کب جلاتا ہوں

1

Download Image

مری صبح اور رات کا ویواد تو یہ ہے
مجھ کو لگتی ہے سگار سونے اور جگنے ہے وہ ہے وہ

1

Download Image

کام مشکل تھا مگر کر جاتا
زخم دل میرا کوئی بھر جاتا

سگریٹوں نے مجھے بچایا ہے
گر نہ پیتا نہ تو مر جاتا

1

Download Image

اگر ہے عشق تو بولو ابھی بھی ورنا دیکھ
بلا رہی ہے وہ پڑھنے نکاح کا سیغہ

0

Download Image

بنا ہے سگریٹوں کا ایسا آشیاں دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کہ دھڑکنوں سے زیادہ ہے اب دھواں دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تمام عمر ر
ہوں گا ہے وہ ہے وہ ا
سے کے اندر قید
تمام عمر رہے گا ترا مکان دل ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

درد مارے ہے ایسے کش پہ کش
جسم جلتا سگار ہوں چنو

4

Download Image

سیغہ کا اصل مفہوم کسی چیز کی صورت یا ساخت سے ہے، جو اکثر گرامر یا اسلوب کے سیاق میں استعمال ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ ایک شاعر کے کام کے منفرد انداز یا دستخط کو شامل کرتا ہے، جس طرح الفاظ کو ایک مخصوص آواز بنانے کے لئے تراشا جاتا ہے۔

شاعر اکثر 'سیغہ' کا استعمال اپنی اظہار کی انفرادیت کو اجاگر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ذاتی لمس یا شاعرانہ آواز کی انفرادیت کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ زیادہ عمومی یا فارمولائی انداز کے برعکس ہے۔

شاعری میں، 'سیغہ' اظہار کی انفرادیت کا ثبوت بن جاتا ہے۔ یہ وہ دستخط ہے جو کسی کو الگ کرتا ہے۔