Meaning of

ستم گر

sitam-gar • सितम-गर

ظالم; جابر

oppressor; tyrant

अत्याचारी; ज़ालिम

Persian

کوئی کتنا بھی ستم گر ہوں برا ہوں قیصر
کچھ لگ کچھ ا
سے ہے وہ ہے وہ م
گر خو
بیاں تو ہوتی ہیں

1

Download Image

خون سے سینچی ہے ہے وہ ہے وہ نے جو ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر مر کے
حقیقت ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ستم گر نے کہا ا
سے کی ہے

30

Download Image

یہ صورت کو دیکھا جو کرتے ہوں اتنی
کبھی دل بھی دیکھا کروں جاناں ستم گر

3

Download Image

غضب ہمت صبح ماں سے وداع بیٹی ہوئی ہوں گی
بچھڑنا ماں ابھی ا
سے سے جاناں نے سپنا سمجھتی ہے

ستم گر یہ مجھے جھوٹا کہا جاناں نے قیامت ہے
قسم کھاکر ک
ہوں تو ماں ابھی سچا سمجھتی ہے

3

Download Image

بدل کر ستم گر ترقی ہوئی اور
بے حد کچھ ہوا پانچ سالو کے اندر

دفن کر دیے ہے سبھی راز خود کے
کتابوں ہے وہ ہے وہ مری سوالوں کے اندر

3

Download Image

تیرا روٹھ جانا ستم گر مجھے
بڑا ہی رولایا خدا کی قسم

1

Download Image

کوئی کتنا بھی ستم گر ہوں برا ہوں قیصر
کچھ لگ کچھ ا
سے ہے وہ ہے وہ م
گر خو
بیاں تو ہوتی ہیں

1

Download Image

خون سے سینچی ہے ہے وہ ہے وہ نے جو ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر مر کے
حقیقت ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ستم گر نے کہا ا
سے کی ہے

30

Download Image

ستم گر ظلم کے بوجھ اور جبر کی سفاکی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر قسمت کی سختی یا وقت کی بے رحمی کی علامت ہوتا ہے، جو جدوجہد اور مزاحمت کی تصاویر کو ابھارتا ہے۔

شاعر ستم گر کا استعمال زندگی کی سخت حقیقتوں کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک ناقابل تسخیر حریف یا معاشرے کی ظالمانہ قوتوں کی نمائندگی کر سکتا ہے، جو انسانی روح کی مضبوطی کے برعکس ہے۔

ستم گر ظلم کے خلاف مستقل جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مزاحمت میں پائی جانے والی طاقت کی یاد دلاتا ہے۔