Meaning of

سو جاناں

soo-e-jaanaan • सू-ए-जानाँ

سوئے جاناں; محبوب کی طرف

towards the beloved; in the direction of the beloved

प्रिय की ओर; प्रेमी की दिशा में

Persian

کم از کم اک زما
لگ چاہتا ہوں
کہ جاناں کو بھول جانا چاہتا ہوں

خدارا مجھ کو تنہا چھوڑ دیجئے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھل کر مسکرانا چاہتا ہوں

سراسر آپ ہوں مد مقابل
خو
گرا خود کو ہرانا چاہتا ہوں

مری حق ہے وہ ہے وہ عرو
سے شب ہے مقتل
سو ا
سے سے لب ملانا چاہتا ہوں

یہ عالم ہے کہ اپنے ہی لہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ
سراسر ڈوب جانا چاہتا ہوں

سنا ہے توڑتے ہوں دل سبھوں کا
سو جاناں سے دل لگانا چاہتا ہوں

اسی بزم طرب کی آرزو ہے
وہی منظر پرانا چاہتا ہوں

نظر سے تیر پھینکو ہوں سو ہے وہ ہے وہ بھی
ج
گر پر تیر خا
لگ چاہتا ہوں

چراغوں کو پیام خموشی دے
تری نزدیک آنا چاہتا ہوں

6

Download Image

سو جاناں مجھے حیرت زدہ آنکھوں سے لگ دیکھو
کچھ لوگ سنبھل جاتے ہیں سب مر نہیں جاتے

39

Download Image

کم از کم اک زما
لگ چاہتا ہوں
کہ جاناں کو بھول جانا چاہتا ہوں

خدارا مجھ کو تنہا چھوڑ دیجئے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھل کر مسکرانا چاہتا ہوں

سراسر آپ ہوں مد مقابل
خو
گرا خود کو ہرانا چاہتا ہوں

مری حق ہے وہ ہے وہ عرو
سے شب ہے مقتل
سو ا
سے سے لب ملانا چاہتا ہوں

یہ عالم ہے کہ اپنے ہی لہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ
سراسر ڈوب جانا چاہتا ہوں

سنا ہے توڑتے ہوں دل سبھوں کا
سو جاناں سے دل لگانا چاہتا ہوں

اسی بزم طرب کی آرزو ہے
وہی منظر پرانا چاہتا ہوں

نظر سے تیر پھینکو ہوں سو ہے وہ ہے وہ بھی
ج
گر پر تیر خا
لگ چاہتا ہوں

چراغوں کو پیام خموشی دے
تری نزدیک آنا چاہتا ہوں

6

Download Image

سو جاناں مجھے حیرت زدہ آنکھوں سے لگ دیکھو
کچھ لوگ سنبھل جاتے ہیں سب مر نہیں جاتے

39

Download Image

اصل میں، 'سوئے جاناں' ایک محبوب شخصیت کی طرف جسمانی یا استعارہاتی حرکت کا اشارہ دیتا ہے۔ شاعری میں، یہ ایسی سفر میں موجود تڑپ اور عقیدت کو پکڑتا ہے، جو اکثر روح کے الہی یا حتمی سچائی کے ساتھ اتحاد کی تلاش کی علامت ہے۔

شاعر اکثر 'سوئے جاناں' کا استعمال محبوب کے ساتھ قربت کی خواہش کا اظہار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ امید اور خواہش سے بھری ہوئی سفر کی تصویر کو اجاگر کرتا ہے، جو جدائی اور فاصلے کے موضوعات کے برعکس ہے۔

شاعری میں، 'سوئے جاناں' محبت اور سچائی کی طرف ابدی سفر کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ قارئین کو تڑپ اور تکمیل کے راستوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔