Meaning of

سدھا

sudha • सुधा

امرِت; الہٰی مشروب

nectar; elixir; divine drink

अमृत; दिव्य पेय

Sanskrit

چل دیا پلٹ کے ہے وہ ہے وہ گھر خمار باقی ہے
کچھ سدھار ہے مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ سدھار باقی ہے

ساتھ جو مری تھا ہے وہ ہے وہ قرض دار سبکا ہوں
شکر ہے خدا مجھ
پہ اک ادھار باقی ہے

2

Download Image

मुहब्बत में जो माथा चूम कर वा'दा किया उस ने
उसे भी आम बातों का ही दर्जा दे दिया उस ने

सुधा के नाम पर विषपान अब हम सेे नहीं होगा
सुना ज्यूँँ ही मुहब्बत से किनारा कर लिया उस ने

16

Download Image

کسی کی چند راتوں کا سدھاکر ہوں نہیں پایا
تمہاری ارمیوں کا ہے وہ ہے وہ اڑنتر ہوں نہیں پایا

سہل تھیں من کی پرتیمائیں م
گر افسو
سے ہے اتنا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ تھا تیرا مہن
گرا مہاور ہوں نہیں پایا

8

Download Image

محبت سے سبھی ہیں دور زبان
نئے لڑکے سدھارے جا رہے ہیں

6

Download Image

جیون ہے وہ ہے وہ اک سہل سا ہی سدھانت ہے میرا
جو رام کا نہیں حقیقت کسی کام کا نہیں

4

Download Image

ملے ہے یار ہاں موقعے سُدھرنے کے ی
ہاں دل کو
سمجھ ہے وہ ہے وہ بات آ جائے سبھی ہاں پھروں سدھر جائے

3

Download Image

شاعری تو سدھار دوں ہے وہ ہے وہ م
گر
ا
سے سے رشتے بگڑ گئے تو پھروں

2

Download Image

عادتیں ساری چھوڑ دی ہے وہ ہے وہ نے
جاناں تو مجھ کو سدھار کر گئی ہوں

2

Download Image

بات سن لو میری سدھر جاؤ
عشق اچھا نہیں ہے گھر جاؤ

2

Download Image

سدھارا
سے آپ کے ادھروں سے تھوڑا سا پلا دو تو
مری دل کا یہ ریگستان بھی دل ناشاد ہوں جائے

2

Download Image

چل دیا پلٹ کے ہے وہ ہے وہ گھر خمار باقی ہے
کچھ سدھار ہے مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ سدھار باقی ہے

ساتھ جو مری تھا ہے وہ ہے وہ قرض دار سبکا ہوں
شکر ہے خدا مجھ
پہ اک ادھار باقی ہے

2

Download Image

मुहब्बत में जो माथा चूम कर वा'दा किया उस ने
उसे भी आम बातों का ही दर्जा दे दिया उस ने

सुधा के नाम पर विषपान अब हम सेे नहीं होगा
सुना ज्यूँँ ही मुहब्बत से किनारा कर लिया उस ने

16

Download Image

سدھا کا اصل مطلب الہٰی امرت ہے، جو امرت اور دیوتاؤں سے وابستہ ہے۔ شاعری میں یہ پاکیزگی، زندگی بخش اور ماورائی کا استعارہ بن جاتا ہے، جو دائمی حسن یا مسرت کا استعارہ ہے۔

شاعر سدھا کا استعمال اکثر محبت کی جوہر یا جذبات کی پاکیزگی کو بیان کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ انسانی تجربے کے ناقابل حصول یا الہٰی پہلو کی علامت ہو سکتا ہے۔

سدھا شاعری میں پاکیزگی اور ماورائیت کی دائمی تلاش کی علامت ہے۔