Meaning of

تکرار

takraar • तकरार

تنازعہ; جھگڑا; بحث

dispute; argument; contention

विवाद; झगड़ा; तर्क

Arabic

جانے کون سی بات آخری
جانے کون سی تکرار آخری

تھمتے ہوئے ان سانسوں کی
جانے کون سی اقرار آخری

1

Download Image

تنقید لگ تکرار بڑی دیر سے چپ ہیں
حیرت ہے مری یار بڑی دیر سے چپ ہیں

گونگوں کو تکلف کے مواقع ہیں میسر
ہم ماہر گفتار بڑی دیر سے چپ ہیں

33

Download Image

لے لو بوسہ اپنا واپ
سے ک
سے لیے تکرار کی
کیا کوئی جاگیر ہم نے چھین لی سرکار کی

22

Download Image

بوسہ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے
لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے

21

Download Image

تھپیڑوں سے بھی ایسے جان ہے وہ ہے وہ تکرار کرتا ہوں
محبت کا یوں دریا تیر کر ہے وہ ہے وہ پار کرتا ہوں

4

Download Image

ا
سے وصل عشق ہے وہ ہے وہ حقیقت پل بھی آئےگا
تکرار سینے ہے وہ ہے وہ خود گھر کر جائے گی

3

Download Image

اب اکیلا گھر ہی مجھ کو پیار کرتا ہے
کوئی آئی رشک ہے وہ ہے وہ تکرار کرتا ہے

3

Download Image

یہ زندگی تنہائی کا آغاز کرتی جا رہی
تکرار کرتے تھے کبھی حقیقت لوگ اب چپ ہوں گئے

3

Download Image

چھوٹی چھوٹی باتوں پہ تکرار نہیں کرتے
سچے دوست کبھی پیچھے سے وار نہیں کرتے

2

Download Image

سچ غلط کا طلبگار ہے ہی نہیں
ا
سے
لیے کوئی تکرار ہے ہی نہیں

2

Download Image

جانے کون سی بات آخری
جانے کون سی تکرار آخری

تھمتے ہوئے ان سانسوں کی
جانے کون سی اقرار آخری

1

Download Image

تنقید لگ تکرار بڑی دیر سے چپ ہیں
حیرت ہے مری یار بڑی دیر سے چپ ہیں

گونگوں کو تکلف کے مواقع ہیں میسر
ہم ماہر گفتار بڑی دیر سے چپ ہیں

33

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'تکرار' خیالات یا الفاظ کے تصادم کو ظاہر کرتا ہے، جو اکثر گرمجوشی اور شدت سے بھرپور ہوتا ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو اپنایا ہے تاکہ جذباتی ہلچل اور ان پرجوش مکالموں کی کھوج کی جا سکے جو ایسے تنازعات سے پیدا ہوتے ہیں، انسانی تعلقات کی جاندار تصاویر کھینچتے ہوئے۔

شاعر اکثر 'تکرار' کا استعمال محبت کی شدت اور گہرے جذباتی رشتوں کے ساتھ آنے والے ناگزیر تنازعات کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دل اور دماغ کی اندرونی کشمکش کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جہاں خواہشات اور عقل ٹکراتے ہیں۔

شاعری میں، 'تکرار' الفاظ کا ایک رقص بن جاتا ہے، انسانی حالت کی پیچیدگی کا عکس۔ یہ تنازعہ اور حل کے جوہر کو پکڑتا ہے۔