Meaning of

تقسیم

taqseem • तक़्सीम

تقسیم; بٹوارہ; تقسیم کاری

division; distribution; partition

विभाजन; वितरण; बँटवारा

Arabic

روٹیاں تقسیم کرنے کی قسم کھاتے ہیں جو
زہر وہ ہی شرمائے ہیں ملک کے آہار میں

0

Download Image

گھر کی تقسیم ہے وہ ہے وہ انگنائی گنوا بیٹھے ہیں
پھول گلشن سے شنا سائی گنوا بیٹھے ہیں

بات آنکھوں سے سمجھ لینے کا دعویٰ مت کر
ہم اسی شوق ہے وہ ہے وہ بینائی گنوا بیٹھے ہیں

59

Download Image

بڑا ہوکر جو چھوٹے لوگوں کی تعظیم کرتا ہے
زمانہ ایسے ہی انسان کو تسلیم کرتا ہے

چلو چھوڑو سیاست کے پرانی طعنہ بانہ کو
یہی حقیقت فلسفہ ہے جو ہمیں تقسیم کرتا ہے

5

Download Image

کہ دو اگر تقسیم سرمایہ ہوں میرے عشق کا
سب چھوڑو ب
سے سپرش ہاتھوں کا ادا کر دوگی نا

1

Download Image

شہر اور بستی جلاتی ہے سیاست آج بھی
رہنما تقسیم کرتے ہیں ناتے آج بھی

ہم شکایت ظلم کی کیسے کریں ک
سے سے کریں
کھا رہی ہے حق غریبوں کا حکومت آج بھی

0

Download Image

روٹیاں تقسیم کرنے کی قسم کھاتے ہیں جو
زہر وہ ہی شرمائے ہیں ملک کے آہار میں

0

Download Image

گھر کی تقسیم ہے وہ ہے وہ انگنائی گنوا بیٹھے ہیں
پھول گلشن سے شنا سائی گنوا بیٹھے ہیں

بات آنکھوں سے سمجھ لینے کا دعویٰ مت کر
ہم اسی شوق ہے وہ ہے وہ بینائی گنوا بیٹھے ہیں

59

Download Image

تقسیم کا اصل مطلب کسی چیز کو حصوں میں بانٹنا ہے، چاہے وہ مادی ہو یا غیر مادی۔ شاعری میں، یہ تقسیم اکثر دل، جذبات یا قسمت تک پھیل جاتی ہے، جو ایک دردناک اور ناگزیر تقسیم کی نشاندہی کرتی ہے۔

شاعر 'تقسیم' کا استعمال جدائی اور تڑپ کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت سے تقسیم دل یا سرحدوں سے تقسیم زمین کی تصویر کو اجاگر کر سکتا ہے۔ یہ لفظ اداسی اور غور و فکر کا احساس رکھتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'تقسیم' ہماری زندگیوں کو شکل دینے والی تقسیمات کی ایک دردناک یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ جدائی کی نوعیت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔