Meaning of
تقسیم
taqseem • तक़्सीम
Urdu
تقسیم; بٹوارہ; تقسیم کاری
English
division; distribution; partition
Hindi
विभाजन; वितरण; बँटवारा
Origin
Arabic
Ash'aar
Nuance
تقسیم کا اصل مطلب کسی چیز کو حصوں میں بانٹنا ہے، چاہے وہ مادی ہو یا غیر مادی۔ شاعری میں، یہ تقسیم اکثر دل، جذبات یا قسمت تک پھیل جاتی ہے، جو ایک دردناک اور ناگزیر تقسیم کی نشاندہی کرتی ہے۔
Poetic Usage
شاعر 'تقسیم' کا استعمال جدائی اور تڑپ کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت سے تقسیم دل یا سرحدوں سے تقسیم زمین کی تصویر کو اجاگر کر سکتا ہے۔ یہ لفظ اداسی اور غور و فکر کا احساس رکھتا ہے۔
Closing Insight
شاعری کی دنیا میں، 'تقسیم' ہماری زندگیوں کو شکل دینے والی تقسیمات کی ایک دردناک یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ جدائی کی نوعیت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
