Meaning of

ترقی

taraqqi • तरक़्क़ी

ترقی; پیشرفت; ارتقاء

progress; advancement; development

प्रगति; उन्नति; विकास

Arabic

اب ضرورت پڑھنے لگیں پر کچھ یوں بدل جاتے ہیں اپنے
جنگ ہے وہ ہے وہ آگے کھڑا کر کے نکل جاتے ہیں اپنے

جب ترقی دیکھتے ہیں اپنوں کی تب سب سے پہلے
ان کے آگے موم کے چنو پگھل جاتے ہیں اپنے

2

Download Image

پھول چھت پہ کھیل گئے پر تازگی کھوتے گئے
ہم بے حد کر کے ترقی سادگی کھوتے گئے

تھا پتا پر بوجھ تو ہم دل لگی ہے وہ ہے وہ چور تھے
بوجھ جب خود پر پڑا تو دل لگی کھوتے گئے

15

Download Image

ترقیوں کا فسا
لگ سنا دیا مجھ کو
ابھی ہنسا بھی لگ تھا اور رلا دیا مجھ کو

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

13

Download Image

دوست دشمن آجکل عیار ہونا چاہیے
یار عاشق بھی ترا دودمان ہونا چاہیے

نوکری ہے وہ ہے وہ ہوں ترقی اور کیا ہی چاہیے
زندگی کے کشت کا ویپار ہونا چاہیے

12

Download Image

دیکھتے ہی دیکھتے موسم بدلنے لگ گیا تو
آنکھ کے تارے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خلنے لگ گیا تو

جو ترقی کی دعا کرتا تھا مری ہاں وہی
دیکھ کر مری ترقی مجھ سے جلنے لگ گیا تو

4

Download Image

اب جا کے ملک آیا ترقی کی راہ پر
کرتے تھے جو حکومت حکومت کے دن گئے

4

Download Image

بدل کر ستم گر ترقی ہوئی اور
بے حد کچھ ہوا پانچ سالو کے اندر

دفن کر دیے ہے سبھی راز خود کے
کتابوں ہے وہ ہے وہ مری سوالوں کے اندر

3

Download Image

سیاست کے فقط پرچم اٹھائے دوڑتے رہنا
ترقی کے ہمیشہ راستے جاناں چھوڑتے رہنا

سیاست داں یہ گھو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے بڑی ا
سے رینج روور ہے وہ ہے وہ ہے وہ
انہی کے ہاتھ نینن پاؤں جاناں ب
سے جوڑتے رہنا

2

Download Image

اب ترقی کے لیے ہی بھاگنا ہے
قاف
یوں کانٹوں سے لگ رستہ ہی بنا ہے

2

Download Image

ان دنوں اتنی ترقی تو نہیں تھی گوٹی
ہاں م
گر لوگ مددگار ہوا کرتے تھے

2

Download Image

اب ضرورت پڑھنے لگیں پر کچھ یوں بدل جاتے ہیں اپنے
جنگ ہے وہ ہے وہ آگے کھڑا کر کے نکل جاتے ہیں اپنے

جب ترقی دیکھتے ہیں اپنوں کی تب سب سے پہلے
ان کے آگے موم کے چنو پگھل جاتے ہیں اپنے

2

Download Image

پھول چھت پہ کھیل گئے پر تازگی کھوتے گئے
ہم بے حد کر کے ترقی سادگی کھوتے گئے

تھا پتا پر بوجھ تو ہم دل لگی ہے وہ ہے وہ چور تھے
بوجھ جب خود پر پڑا تو دل لگی کھوتے گئے

15

Download Image

اصل میں، 'ترقی' کا مطلب آگے بڑھنا یا ترقی ہے، جو اکثر معاشرتی یا ذاتی ترقی سے منسلک ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ انسانی روح کی امنگوں اور جدوجہد کو مجسم کرتا ہے، بہتر مستقبل کی طرف بڑھنے کے جوہر کو پکڑتا ہے۔

شاعر اکثر 'ترقی' کا استعمال امید اور امنگ کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک قوم کے سفر یا خود کو بہتر بنانے کی جستجو کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ جمود کے برعکس زندگی کی متحرک نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'ترقی' روشنی کا مینار بن جاتا ہے، جو روح کو غیر یقینی کے اندھیرے سے رہنمائی کرتا ہے۔