Meaning of

وداع

vida • विदा

وداع; روانگی

farewell; departure

विदाई; प्रस्थान

Sanskrit

ا
سے نے کہا کہ جاناں سے محبت نہیں مجھے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی الوداع کہا اور فون رکھ دیا

5

Download Image

مجھے اندھیرے سے بات کرنی ہے سو کرا دو دیا بجھا دو
کچھ ایک لمحوں کو روشنی کا گلہ دبا دو دیا بجھا دو

رواج محفل نبھا رہا ہوں بتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ جا رہا ہوں
مجھے وداع دو جو رونا چاہے ا
نہیں بلا دو دیا بجھا دو

52

Download Image

حسین یادوں کے چاند کو الوداع کہ کر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر کے اندھیرے کمروں ہے وہ ہے وہ لوٹ آیا

29

Download Image

رقیبوں کی کہی باتوں پہ جھٹ سے فیصلہ کر کے
کہو اب کیا ہوا حاصل یوں ہم کو الوداع کر کے

26

Download Image

کلیجہ رہ گیا تو ا
سے سمے پھٹ کر
کہا جب الوداع ا
سے نے پلٹ کر

22

Download Image

ہے وہ ہے وہ نے بھی مسکرا کے مری گھر سے لی وداع
ماں نے بھی اپنے آنسو چھلکنے نہیں دیے

22

Download Image

کہتے ہوں جاناں شادی ریت ملن کی ہے
تو پھروں اس کی پہلی شرط وداعی کیوں

16

Download Image

ا
سے کے آنے سے مکمل ہوئی خوشیاں ج
سے کی
حقیقت بھی رونے لگا بیٹی کو وداعی دے کر

9

Download Image

جانے کا سمے ہوں گیا تو ہے اب بشر چلو
اسباب سارے چھوڑ کے کہتے ہیں الوداع

7

Download Image

سنا ہے وداع ہوں رہی ہے
ادھوری محبت ہماری

5

Download Image

ا
سے نے کہا کہ جاناں سے محبت نہیں مجھے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی الوداع کہا اور فون رکھ دیا

5

Download Image

مجھے اندھیرے سے بات کرنی ہے سو کرا دو دیا بجھا دو
کچھ ایک لمحوں کو روشنی کا گلہ دبا دو دیا بجھا دو

رواج محفل نبھا رہا ہوں بتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ جا رہا ہوں
مجھے وداع دو جو رونا چاہے ا
نہیں بلا دو دیا بجھا دو

52

Download Image

لفظ 'وداع' جدائی کا وزن اٹھاتا ہے، ایک ایسا لمحہ جو غم اور امید دونوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اصل میں، یہ چھوڑنے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے، ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقلی۔ شاعری میں، یہ الوداع کہنے کے کڑوے میٹھے جوہر کو پکڑتا ہے، جہاں یادیں باقی رہتی ہیں اور مستقبل بلاتا ہے۔

شاعر 'وداع' کا استعمال تبدیلی اور انتقال کے موضوعات کو تلاش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسے اکثر الوداع کی جذباتی پیچیدگی کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جہاں ماضی اور مستقبل ملتے ہیں۔ یہ اصطلاح مستقل مزاجی کے برعکس ہے، زندگی کی عارضی نوعیت کو اجاگر کرتی ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'وداع' زندگی کے عارضی لمحات کی ایک دردناک یاد دہانی ہے۔ یہ ناگزیر تبدیلی کے سامنے دل کی مضبوطی کو بیان کرتا ہے۔