Meaning of

یاس

yaas • यास

ناامیدی; مایوسی

despair; hopelessness

निराशा; आशाहीनता

Arabic

بے حد غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر
جو مری پیا
سے سے الجھ تو دھجیاں اڑ جائیں

50

Download Image

کوئی سمندر کوئی ن
گرا ہوتی کوئی دریا ہوتا
ہم جتنے پیاسے تھے ہمارا ایک گلا
سے سے کیا ہوتا

طعنہ دینے سے اور ہم پہ شک کرنے سے بہتر تھا
گلے لگا کے جاناں نے ہجرت کا دکھ باٹ لیا ہوتا

164

Download Image

مری ہونٹوں پہ اپنی پیا
سے رکھ دو اور پھروں سوچو
کہ ا
سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

126

Download Image

پیا
سے ا
گر مری بجھا دے تو ہے وہ ہے وہ جانو ورنا
تو سمندر ہے تو ہوگا مری ک
سے کام کا ہے

110

Download Image

حقیقت ہندو ہے وہ ہے وہ مسلم یہ سکھ حقیقت عیسائی
یار یہ سب سیاست ہے چلو عشق کریں

88

Download Image

ا
سے دور سیاست کا اتنا سا فسا
لگ ہے
بستی بھی جلانی ہے ماتم بھی منانا ہے

85

Download Image

کوئی سمندر کوئی ن
گرا ہوتی کوئی دریا ہوتا
ہم جتنے پیاسے تھے ہمارا ایک گلا
سے سے کیا ہوتا

85

Download Image

ج
سے کو خود ہے وہ ہے وہ نے بھی اپنی روح کا عرفاں سمجھا تھا
حقیقت تو شاید مری پیاسے ہونٹوں کی شیطانی تھی

80

Download Image

چپ رہتے ہیں چپ رہنے دو راز بتاؤ کھولے کیا
بات وفا کی جاناں کرتی ہوں بولو ہم کچھ بولے کیا

الفت تو افسا
لگ ہے جاناں کرتی خوب سیاست ہوں
ہم بھی ہیں اڑاؤ بے حد اب بول کسی کے ہولیں کیا

77

Download Image

سگریٹ کی شکل ہے وہ ہے وہ کبھی چائے کی شکل ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اک پیا
سے ہے کہ ج
سے کو پیے جا رہے ہیں ہم

62

Download Image

بے حد غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر
جو مری پیا
سے سے الجھ تو دھجیاں اڑ جائیں

50

Download Image

کوئی سمندر کوئی ن
گرا ہوتی کوئی دریا ہوتا
ہم جتنے پیاسے تھے ہمارا ایک گلا
سے سے کیا ہوتا

طعنہ دینے سے اور ہم پہ شک کرنے سے بہتر تھا
گلے لگا کے جاناں نے ہجرت کا دکھ باٹ لیا ہوتا

164

Download Image

یاس کا لفظ گہری ناامیدی کا احساس پیدا کرتا ہے، جیسے دل پر مایوسی کا سایہ چھا جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ان سیاہ سایوں کی علامت ہوتا ہے جو خوابوں اور آرزوؤں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔

شاعر 'یاس' کا استعمال جذباتی ہلچل کی گہرائی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خاموش تکلیف کی تصویر کھینچتا ہے، جہاں الفاظ ناکام ہو جاتے ہیں لیکن دل کی تکلیف جاری رہتی ہے۔ یہ عارضی خوشی کے لمحات کے برعکس ہوتا ہے، خوشی کی عارضی نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'یاس' انسانی حالت کی نزاکت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ مایوسی کے درمیان دل کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔