Meaning of

زخم دل

zakhm-e-dil • ज़ख़्म-ए-दिल

دل کا زخم; جذباتی درد

wound of the heart; emotional pain

दिल का घाव; भावनात्मक पीड़ा

Persian

ہوا ہے سمے کا ہم پر کرم یہ
ذرا سا زخم دل کا سل گیا تو ہے

گنوا کر اپنی کشتی سوچتے ہیں
غنیمت ہے کنارہ مل گیا تو ہے

1

Download Image

زخم دل پر ہزار کرتا ہے
اور کہتا ہے پیار کرتا ہے

غزلوں ہے وہ ہے وہ اتر گیا تو کیسے
کوئی اپنا ہی وار کرتا ہے

31

Download Image

بے وفا بے وجہ تیرا نام بھی منا سے لینا
زخم دل و نمک کی توہین سمجھتا ہوں ہے وہ ہے وہ

17

Download Image

زخم دل کے بھرے نہیں اب تک
اور اک درد پھروں ہرا کر لوں

اب بھروسا نہیں کسی کا پر
تو کہے تو یقین ترا کر لوں

15

Download Image

اے مری جاں مری دل کو کیا ہوں گیا تو
لگتا ہے زخم دل کا ہرا ہوں گیا تو

5

Download Image

ا
سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ قدرت نے ایسی دی ہے مسیحائی
سینے پر حقیقت ہاتھ رکھے تو زخم دل بھر جاتا ہے

3

Download Image

کیوں زخم دل کا مٹا دوں بھلا دوا کر کے
یہ مری پا
سے تیری آخری نشانی ہیں

2

Download Image

مری زخم دل کا دوا نہیں ہوا
کہ ج
سے کو بھی چاہا میرا نہیں ہوا

2

Download Image

زخم دل و نمک گر بچانی ہیں
تو امیرو سے دوریاں رکھو

1

Download Image

کام مشکل تھا مگر کر جاتا
زخم دل میرا کوئی بھر جاتا

سگریٹوں نے مجھے بچایا ہے
گر نہ پیتا نہ تو مر جاتا

1

Download Image

ہوا ہے سمے کا ہم پر کرم یہ
ذرا سا زخم دل کا سل گیا تو ہے

گنوا کر اپنی کشتی سوچتے ہیں
غنیمت ہے کنارہ مل گیا تو ہے

1

Download Image

زخم دل پر ہزار کرتا ہے
اور کہتا ہے پیار کرتا ہے

غزلوں ہے وہ ہے وہ اتر گیا تو کیسے
کوئی اپنا ہی وار کرتا ہے

31

Download Image

زخم دل کا لفظ محبت یا غم سے پیدا ہونے والے دل کے زخموں کی تصویر پیش کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ ان گہرے جذباتی زخموں کی علامت ہے جو نظر نہ آنے کے باوجود گہرائی سے محسوس کیے جاتے ہیں۔ دل، جو اکثر جذبات کا مرکز سمجھا جاتا ہے، ایک ایسا میدان جنگ بن جاتا ہے جہاں محبت اور درد ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔

شاعر اکثر 'زخم دل' کا استعمال ان کہی تکالیف اور دل کے درد کی خاموش برداشت کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اندرونی غیر مرئی جنگوں کا استعارہ ہے، جہاں دل ناکام محبت یا نقصان کا بوجھ اٹھاتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'زخم دل' دل کی برداشت اور گہرائی سے محسوس کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔