Meaning of

ذریعے

zariye • ज़रिये

وسیلہ; ذریعہ; وسیلہ

means; medium; resource

साधन; माध्यम; संसाधन

Arabic

ہے وہ ہے وہ نے مانا کہ نئی آب و زیست ہے دینا مشکل
موت کے تو ہیں کئی ذریعے تو پھروں کیا مشکل

0

Download Image

کوئی خوشیاں کوئی خواہش تو الفت مانگتا کوئی
کسی پیپل کے ذریعے سے بھی بد دعا مانگتا کوئی

ا
گر آدم کو خود پہ اختیار آ جاتا تو مولا
لگ دنیا ہے وہ ہے وہ کوئی آتا لگ جنت مانگتا کوئی

5

Download Image

شباب اب ب
سے کروں جاناں بھی جاناں اب کیا کر کے مانوگے
غزل کے ذریعے جاناں بھی یار کیا حالات کہتے ہوں

2

Download Image

کہتے ہیں لوگوں کے پا
سے ڈبانے کے ذریعے اچھے ہوتے ہیں
یار ی
ہاں تعریف و کے پل کے نیچے دریے اچھے ہوتے ہیں

1

Download Image

کسی کے ترچھے نظریے کو ہے وہ ہے وہ بدل لگ سکا
سو یہ کیا کہ ا
سے سے ہے وہ ہے وہ نے دوریاں کر لیں

1

Download Image

ہے مجل
سے فراق مری قلب ہے وہ ہے وہ بپا
دھڑکن کے ذریعے آہ و بکا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

ہے وہ ہے وہ نے مانا کہ نئی آب و زیست ہے دینا مشکل
موت کے تو ہیں کئی ذریعے تو پھروں کیا مشکل

0

Download Image

کوئی خوشیاں کوئی خواہش تو الفت مانگتا کوئی
کسی پیپل کے ذریعے سے بھی بد دعا مانگتا کوئی

ا
گر آدم کو خود پہ اختیار آ جاتا تو مولا
لگ دنیا ہے وہ ہے وہ کوئی آتا لگ جنت مانگتا کوئی

5

Download Image

ذریعے کا اصل مطلب وہ وسیلہ یا ذریعہ ہے جس کے ذریعے کچھ حاصل یا بیان کیا جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ان لطیف دھاگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو جذبات، خیالات اور اعمال کو جوڑتے ہیں، انہیں ایک مربوط شکل میں بُنتے ہیں۔

شاعر 'ذریعے' کا استعمال مختلف عناصر کے درمیان غیر مرئی تعلقات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کے اظہار کے وسیلہ یا غم کے سفر کے راستے کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ براہ راست اظہار کے برعکس ہوتا ہے، تعلقات اور واقعات کا زیادہ لطیف نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔

شاعری میں، 'ذریعے' ہمارے تجربات کو جوڑنے والے پیچیدہ راستوں کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ ہماری زندگیوں کو شکل دینے والی لطیف قوتوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔