Meaning of

آمد

aamad • आमद

آمد; آغاز; تحریک

arrival; advent; inspiration

आगमन; आगाज़; प्रेरणा

Arabic

غریبی کبھی گھٹاتے نہیں دیکھتی ہے
یہ رشتوں کی بھی غد نہیں دیکھتی ہے

زما
لگ سکھا دیتا ہے سب ی
ہاں تو
یہ نظریں یوں آمد نہیں دیکھتی ہے

2

Download Image

عشق ا
گر بڑھتا ہے تو پھروں جھگڑے بھی تو بڑھتے ہیں
آمدنی جب بڑھتی ہے تو خرچے بھی تو بڑھتے ہیں

مانا منزل نہیں ملی ہے ہم کو لیکن روزا
لگ
ایک قدم ا
سے کی جانب ہم آگے بھی تو بڑھتے ہیں

73

Download Image

ہر ایک چوکھٹ کھلی ہوئی تھی ہر اک دریچہ کھلا ہوا تھا
کہ ا
سے کی آمد پہ در ی
ہاں تک کہ بےگھروں کا کھلا ہوا تھا

یہ تیری ہمم نے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی الجھن ہے وہ ہے وہ ڈال رکھا ہے ورنا ہم پر
تمام سائن
سے کے فلسفوں کا ہر ایک چٹّھا کھلا ہوا تھا

32

Download Image

شراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خوں سے
تو اب امیر کے خوں سے شراب پیدا کر

تو انقلاب کی آمد کا انتظار لگ کر
جو ہوں سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

26

Download Image

دل پامال پر دل کو تو آمادہ کیا ہے لیکن
ہوش اڑ جاتے ہیں اب بھی تیری آواز کے ساتھ

15

Download Image

لکھنے کو آمادہ ہے کیا
یہ بھی کوئی وعدہ ہے کیا

پھولوں کے سنگ درد دیے
بول تیرا ارادہ ہے کیا

7

Download Image

سپنے گئے سکون بھی الفت چلی گئی
ملنے کی اپنے آپ سے فرصت چلی گئی

مری تو بولنے کی ہی عادت چلی گئی
تری ہی ساتھ ساری شرارت چلی گئی

خوشیاں تھیں ا
سے سے گھر ہے وہ ہے وہ تھیں آنگن ہے وہ ہے وہ رونقیں
بٹیا کے ساتھ گھر کی بھی برکت چلی گئی

چھوٹا تمہارا ساتھ تو باقی ہی کیا بچا
دل ہے وہ ہے وہ جو پل رہی تھی حقیقت حسرت چلی گئی

آتے نہیں مختلف لگ سائل بھی آجکل
ماں کیا گئی کہ گھر کی روایت چلی گئی

مری سخن پہ تو نے اٹھائیں جو انگلياں
مری تمام عمر کی محنت چلی گئی

یوں بھی کبھی جہان ہے وہ ہے وہ افرات ہے وہ ہے وہ لگ تھی
تھوڑی بے حد تھی حقیقت بھی اپناپن چلی گئی

ہوتی نہیں ہے شعر کی آمد بھی اب نظر
جاناں کیا گئے کہ لفظ کی طاقت چلی گئی

3

Download Image

حقیقت آمادہ ہے رشتہ توڑ دینے پر
چلو جھوٹی دلیلیں مان لیتے ہیں

2

Download Image

میرا دروازہ کھلا رہ گیا تو جن کی خاطر
ان کی آمد لگ ہوئی میرا اشارہ لگ ہوا

2

Download Image

خاص اتنی ہے نہیں آمد تمہاری
پھروں ہمارے دل کی دھڑکن کیوں بڑھی تب

2

Download Image

غریبی کبھی گھٹاتے نہیں دیکھتی ہے
یہ رشتوں کی بھی غد نہیں دیکھتی ہے

زما
لگ سکھا دیتا ہے سب ی
ہاں تو
یہ نظریں یوں آمد نہیں دیکھتی ہے

2

Download Image

عشق ا
گر بڑھتا ہے تو پھروں جھگڑے بھی تو بڑھتے ہیں
آمدنی جب بڑھتی ہے تو خرچے بھی تو بڑھتے ہیں

مانا منزل نہیں ملی ہے ہم کو لیکن روزا
لگ
ایک قدم ا
سے کی جانب ہم آگے بھی تو بڑھتے ہیں

73

Download Image

’آمد‘ لفظ کسی اہم چیز کی نرم آمد کو ظاہر کرتا ہے، جب معمولی کو غیر معمولی کے ذریعے چھوا جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر الہام یا محبوب کی آمد کی علامت ہوتا ہے، جو خاموشی سے اظہار کی طرف منتقلی کو نشان زد کرتا ہے۔

شاعر ’آمد‘ کا استعمال الہام کی آمد کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ بہار، ایک نئے خیال، یا محبوب کی آمد کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ ’رفت‘ کے برعکس ہے، جو روانگی کا اشارہ دیتا ہے۔

اپنی اصل میں، ’آمد‘ شروعات کی خوبصورتی کو پکڑتا ہے۔ یہ آمد کی طاقت کی ایک نرم یاد دہانی ہے۔