Meaning of

عرض

arz • अर्ज़

درخواست; التجا; عرض

request; plea; submission

अनुरोध; विनती; निवेदन

Arabic

الفت سے دنیا کا بیر پرانا ہے
پھروں بھی دیوانے کو شعر سنہانا ہے

سبکا قرض ادا کر کے لوٹا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ب
سے اک لڑکی کا بوسہ لوٹانا ہے

60

Download Image

گلے ملنا لگ ملنا تو تیری مرضی ہے لیکن
تری چہرے سے لگتا ہے تیرا دل کر رہا ہے

577

Download Image

جاناں بے حد خوش ر
ہوں گی مری ساتھ
ویسے ہر اک کی اپنی مرضی ہے

357

Download Image

یہ آئینے ہے وہ ہے وہ جو مسکا رہا ہے
مری ہونٹوں کا دکھ دوہرا رہا ہے

مری مرضی ہے وہ ہے وہ ا
سے
پہ جو لٹاؤں
تمہاری جیب سے کیا جا رہا ہے

102

Download Image

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے مطابق کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے

97

Download Image

آپ کیوں روئیںگے مری خاطر
فرض یہ سارے ا
سے غلام کے ہیں

دن ہے وہ ہے وہ سو بار یاد کرتا ہوں
پاسورڈ سارے تری نام کے ہیں

78

Download Image

مری برسوں کی اداسی کا صلہ کچھ تو ملے
ا
سے سے کہ دو حقیقت میرا قرض چکانے آئی

72

Download Image

تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال بے زار ا
گر اجازت ہوں

62

Download Image

ہے وہ ہے وہ سو رہا ہوں تری خواب دیکھنے کے لیے
یہ آرزو ہے کہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ رات رہ جائے

61

Download Image

بھرے ہوئے جام پر سراحی کا سر جھکا تو برا لگے گا
جسے تیری آرزو نہیں تو اسے ملا تو برا لگے گا

یہ آخری کمپکمپاتا جملہ کہ ا
سے تعلق کو ختم کر دو
بڑے جتن سے کہا ہے ا
سے نے نہیں کیا تو برا لگے گا

61

Download Image

الفت سے دنیا کا بیر پرانا ہے
پھروں بھی دیوانے کو شعر سنہانا ہے

سبکا قرض ادا کر کے لوٹا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ب
سے اک لڑکی کا بوسہ لوٹانا ہے

60

Download Image

گلے ملنا لگ ملنا تو تیری مرضی ہے لیکن
تری چہرے سے لگتا ہے تیرا دل کر رہا ہے

577

Download Image

'عرض' میں عاجزی اور سنجیدگی کا وزن ہوتا ہے۔ یہ محض ایک درخواست نہیں ہے، بلکہ دل سے کی گئی التجا ہے، اپنی خواہشات یا شکایات کو کسی اور کے سامنے پیش کرنا، اکثر ایک قسم کی غیر یقینی کے ساتھ۔

شاعر 'عرض' کا استعمال گہری خواہش یا نامکمل خواہشات کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر محبت کے سیاق و سباق میں آتا ہے، جہاں دل کی خاموش پکاریں عیاں ہوتی ہیں۔ یہ مطالبات کے برعکس، نرمی اور خلوص پر زور دیتا ہے۔

شاعری میں 'عرض' روح کی ایک نرم سرگوشی ہے، عاجزانہ اظہار کی طاقت کا ثبوت ہے۔