Meaning of

روایت

be-hayaai • बे-हयाई

بے شرمی; حیا کا فقدان

shamelessness; lack of modesty

बेशर्मी; लज्जा का अभाव

Persian

جیسا کہ رہے ہوں ویسا نہیں ہے
درد جاناں نے ابھی دیکھا نہیں ہے

بے وفائی ہے دنیا کی روایت
بے وفائی کوئی دھوکہ نہیں ہے

2

Download Image

عشق ہے وہ ہے وہ ہوں بے وفائی روایت بے کلی
جاناں کو گر جھمکے ہے تو ہم کو بھی جھمکے ہے

44

Download Image

دل لگا کے دغا ہم نہیں کرتے ہیں
کاتب ہماری روایت نہیں

9

Download Image

بے وفائی عادت ہے
روایت فطرت ہے

مری چنو عاشق ہیں
کرنے والے پہ خواب ہے

9

Download Image

اک روایت تھی نبھانی سو نبھا دی ہے وہ ہے وہ نے
چھوڑ کر جاتے ہوئے خوب دعا دی ہے وہ ہے وہ نے

ا
سے کو ب
سے اتنا ہی کہ پایا کہ خوش رہنا اور
دل کی دیوار سے تصویر ہٹا دی ہے وہ ہے وہ نے

7

Download Image

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ معلوم نہیں تھا یہ مصیبت ہے
ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ علم نہیں تھا کی روایت ہے

4

Download Image

ہاں جسم کی ہوں
سے کا آغاز کرتے ہیں حقیقت
اپنی ہی روایت پہ ناز کرتے ہیں حقیقت

4

Download Image

مجھے ملنے جو آتے ہوں روایت بھول جاتے ہوں
کبھی عاشق کو لاتے ہوں کبھی بھولے سے آتے ہوں

3

Download Image

سپنے گئے سکون بھی الفت چلی گئی
ملنے کی اپنے آپ سے فرصت چلی گئی

مری تو بولنے کی ہی عادت چلی گئی
تری ہی ساتھ ساری شرارت چلی گئی

خوشیاں تھیں ا
سے سے گھر ہے وہ ہے وہ تھیں آنگن ہے وہ ہے وہ رونقیں
بٹیا کے ساتھ گھر کی بھی برکت چلی گئی

چھوٹا تمہارا ساتھ تو باقی ہی کیا بچا
دل ہے وہ ہے وہ جو پل رہی تھی حقیقت حسرت چلی گئی

آتے نہیں مختلف لگ سائل بھی آجکل
ماں کیا گئی کہ گھر کی روایت چلی گئی

مری سخن پہ تو نے اٹھائیں جو انگلياں
مری تمام عمر کی محنت چلی گئی

یوں بھی کبھی جہان ہے وہ ہے وہ افرات ہے وہ ہے وہ لگ تھی
تھوڑی بے حد تھی حقیقت بھی اپناپن چلی گئی

ہوتی نہیں ہے شعر کی آمد بھی اب نظر
جاناں کیا گئے کہ لفظ کی طاقت چلی گئی

3

Download Image

روایت لگ ہوئی عطر ہوئی بے ڈھنگی
با حیا تو کبھی ا
سے رنگ ہے وہ ہے وہ بے باک لگ ہوں

2

Download Image

جیسا کہ رہے ہوں ویسا نہیں ہے
درد جاناں نے ابھی دیکھا نہیں ہے

بے وفائی ہے دنیا کی روایت
بے وفائی کوئی دھوکہ نہیں ہے

2

Download Image

عشق ہے وہ ہے وہ ہوں بے وفائی روایت بے کلی
جاناں کو گر جھمکے ہے تو ہم کو بھی جھمکے ہے

44

Download Image

بے حیائی کا لفظ ایک قسم کی جرات اور بے باکی کا احساس پیدا کرتا ہے، جس میں اکثر منفی معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اپنے اصل معنی میں، یہ شرم یا حیا کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، ایک ایسی حالت جہاں معاشرتی اقدار کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ شاعری میں، اس لفظ کا استعمال انسانی رویے کی گہرائیوں کو جانچنے کے لیے کیا گیا ہے، اخلاقیات کی حدود اور انہیں چیلنج کرنے کی جرات پر سوال اٹھاتے ہوئے۔

شاعر اکثر 'بے حیائی' کا استعمال ان کرداروں کو پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں جو معاشرتی اصولوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس کا استعمال ذاتی خواہشات اور اجتماعی توقعات کے درمیان تناؤ کو اجاگر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ معاشرتی منافقت پر تنقید کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں بے شرمی کی کمی کی مذمت بھی کی جاتی ہے اور خفیہ طور پر تعریف بھی۔

اپنی شاعرانہ جوہر میں، 'بے حیائی' قاری کو جرات اور بے ادبی کے درمیان باریک لکیر پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ معاشرے کے شرم کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کا آئینہ ہے۔