Meaning of

بسم اللہ

bismillah • बिस्मिल्लाह

اللہ کے نام پر; آغاز

in the name of Allah; beginning

अल्लाह के नाम पर; आरंभ

Arabic

نیم بسم اللہ ہوا عارضی طور پر سان
سے لیتی رہی
سانولا ایک موسم درختوں کی شاخوں پہ رکھا رہا

0

Download Image

چرائےگا اسی سے آنکھ قاتل
ذرا سی جان ج
سے بسم اللہ ہے وہ ہے وہ ہوں گی

42

Download Image

کیا تباہ تو دہلی نے بھی بے حد بسم اللہ
م
گر خدا کی قسم چھوڑنا نے لوٹ لیا

33

Download Image

کبھی بسم اللہ سے پوچھو جاناں کبھی اشفاق سے پوچھو
وطن کیا چیز ہے یاروں ہندیوں آزاد سے پوچھو

30

Download Image

جو بسم اللہ بنا دے حقیقت قاتل تبسم
جو قاتل بنا دے حقیقت دلکش نظارہ

محبت کا بھی کھیل چھوؤں گا ہے کتنا
نظر مل گئی آپ جیتے ہے وہ ہے وہ ہارا

22

Download Image

یہ قتل عام اور بے اذن قتل عام کیا کہیے
یہ بسم اللہ کیسے بسم اللہ ہیں جنہیں قاتل نہیں ملتا

وہاں کتنوں کو تخت و تاج کا ارمان ہے کیا کہیے
جہاں سائل کو 9 کاسہ سائل نہیں ملتا

19

Download Image

دل میرا تھا رو رہا آنکھیں تھی ا
سے کی رو رہیں
حقیقت ہوئے بسم اللہ تھے آب گریہ جو تھے دیکھتے

3

Download Image

دل میرا تھا رو رہا آنکھیں تھی اس کا کی رو رہیں
حقیقت بنے بسم اللہ تھے آب گریہ جو تھے دیکھتے

2

Download Image

ہمارے ساتھ چلنے کا ارادہ ہے تو بسم اللہ
ا
گر دنیا بدلنے کا ارادہ ہے تو بسم اللہ

میرا پیکر ہے خاکی خاک ہے وہ ہے وہ مل جائےگا اک دن
اگرچہ پھروں بھی ڈھلنے کا ارادہ ہے تو بسم اللہ

1

Download Image

اپنا بھی آرام کھویا مجھ کو بھی بسم اللہ کیا
توڑ کر مجھ سے مقدم تو نے کیا حاصل کیا

0

Download Image

نیم بسم اللہ ہوا عارضی طور پر سان
سے لیتی رہی
سانولا ایک موسم درختوں کی شاخوں پہ رکھا رہا

0

Download Image

چرائےگا اسی سے آنکھ قاتل
ذرا سی جان ج
سے بسم اللہ ہے وہ ہے وہ ہوں گی

42

Download Image

بسم اللہ کا لفظ الہی برکت کے ساتھ آغاز کی گہری احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر سفر یا کوشش کے آغاز کی علامت ہوتا ہے، جس میں تقدس اور عاجزی کا احساس ہوتا ہے۔

شاعر 'بسم اللہ' کا استعمال نظم یا اہم حصے کے آغاز کو نشان زد کرنے کے لیے کرتے ہیں، جس سے متن میں الہی رہنمائی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ دنیاوی آغاز کے برعکس، ایک روحانی لہجہ پیش کرتا ہے۔

اپنی سادگی میں، 'بسم اللہ' الہی کے دروازے کھولتا ہے، قاری کو ایک ایسی دنیا میں قدم رکھنے کی دعوت دیتا ہے جہاں ہر آغاز مقدس ہوتا ہے۔