Meaning of

دھمکی

dahmaki • दहमकी

دھمکی; ڈرانا

threat; intimidation

धमकी; डराना

Persian

قتل کرنے کے لیے آتی ہے دھمکی لیکن
دشمنوں پر کبھی یلغار نہیں کرتا ہوں

0

Download Image

سہیوں سنگ رنگنے کی دھمکی سن کر کیا ڈر جاؤں گا
تیری گلی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا یہ معلوم ہے پر آؤںگا

69

Download Image

ہم نے غزلوں ہے وہ ہے وہ حکومت کو لکھی ہے خواب
دھمکیاں آتی ہیں انعام تو آنے سے رہا

30

Download Image

چھوڑنے کی کوئی دھمکی دے رہے ہیں آپ کیوں
آپ خالی اڑانی سے جا چکے ہیں جائیے

29

Download Image

بھونچال کی دھمکی کا ا
گر ڈر ہے تو لوگوں
ان کچے مکانوں کو گرا کیوں نہیں دیتے

16

Download Image

ہوں مخالف تو پھروں آ جاؤ کھلے میدان ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اپنی قوت آزماؤ دھمکیاں اندر رکھو

13

Download Image

تری بغیر بھی ہم نے تجھی پہ شعر کہے
رہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ اور روشنی پہ شعر کہے

مجھے حقیقت دھمکیاں دیتی ہے مار ڈالوں گی
دوبارہ جاناں نے ا
گر خود کشی پہ شعر کہے

ہمارا کبھی جھوٹ لکھ نہیں پایا
جو تیرگی تھی تو پھروں تیرگی پہ شعر کہے

ہماری فکر نے پانی ہے وہ ہے وہ زہر دیکھا و
ہاں
ج
ہاں پہ آکے سبھی نے ن
گرا پہ شعر کہے

اٹھاکے ہاتھ اداسی یہ بولی ہے وہ ہے وہ بھی ہوں
کبھی جو ہے وہ ہے وہ نے خوشی ہے وہ ہے وہ خوشی پہ شعر کہے

3

Download Image

مجھ کو دھمکی دے رہا ہے روک دےگا دھڑکنیں
کیسے سمجھاؤں ہے وہ ہے وہ اب اپنے دل زار ناکام کو

1

Download Image

تیری پرواہ کرنا آساں ہوں
گر تو دھمکی لگ دے چلا جائے

1

Download Image

قتل کرنے کے لیے آتی ہے دھمکی لیکن
دشمنوں پر کبھی یلغار نہیں کرتا ہوں

0

Download Image

سہیوں سنگ رنگنے کی دھمکی سن کر کیا ڈر جاؤں گا
تیری گلی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا یہ معلوم ہے پر آؤںگا

69

Download Image

دھمکی قریب آنے والے خطرے یا جبر کا احساس دلاتی ہے۔ شاعری میں، یہ انسانی تعامل کے تاریک پہلوؤں کی عکاسی کر سکتی ہے، جہاں طاقت کی حرکیات اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

شاعر اکثر اس کا استعمال خوف اور کنٹرول کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ آزادی اور جبر کے درمیان تناؤ کو بھی اجاگر کر سکتا ہے۔

دھمکی انسانی تعلقات کے اندر چھپے ہوئے سائے کو ظاہر کرتی ہے۔