Meaning of

درخت

darkhat • दरख़्त

درخت

tree

वृक्ष

Persian

رکیں تو دھوپ سے نظریں بچاتے رہتے ہیں
چلیں تو کتنے درخت آتے جاتے رہتے ہیں

28

Download Image

حقیقت پا
سے کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا تو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
سے مزاق کو دل سے لگا کے بیٹھ گیا تو

درخت کاٹ کے جب تھک گیا تو کلہاڑیاں
تو اک درخت کے سائے ہے وہ ہے وہ جا کے بیٹھ گیا تو

100

Download Image

تیری نگاہ ناز سے چھوٹے ہوئے درخت
مر جائیں کیا کریں بتا سوکھے ہوئے درخت

حیرت ہے پیڑ نیم کے دینے لگے ہیں آم
پگلا گئے ہیں آپ کے چو گرد امیر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئے درخت

96

Download Image

انسان کو ہی عقل یہ آنا تو ہے نہیں
دھرتی کے ہی علاوہ ہری تو ہے نہیں

بھر لو سلینڈروں ہے وہ ہے وہ ج
ہاں بھر کی آکسیجن
جاناں کو م
گر درخت لگانا تو ہے نہیں

44

Download Image

یہ ک
سے کے دوار پہ کھڑا زندہ درخت ہے
ان پتھروں کے شہر ہے وہ ہے وہ انسان کون ہے

43

Download Image

وحشت کے زہر سے تازہ غزل نکال
اے دل پامال کے درخت میرا میٹھا پھل نکال

43

Download Image

درخت کاٹ کے جب تھک گیا تو کلہاڑیاں
تو اک درخت کے سائے ہے وہ ہے وہ جا کے بیٹھ گیا تو

39

Download Image

سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا
امید باندھیے لگ بڑے آدمی کے ساتھ

37

Download Image

ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں
باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں

34

Download Image

شاید کسی بلا کا تھا سایہ درخت پر
چڑیوں نے رات شور مچایا درخت پر

32

Download Image

رکیں تو دھوپ سے نظریں بچاتے رہتے ہیں
چلیں تو کتنے درخت آتے جاتے رہتے ہیں

28

Download Image

حقیقت پا
سے کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا تو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
سے مزاق کو دل سے لگا کے بیٹھ گیا تو

درخت کاٹ کے جب تھک گیا تو کلہاڑیاں
تو اک درخت کے سائے ہے وہ ہے وہ جا کے بیٹھ گیا تو

100

Download Image

درخت زندگی اور نشوونما کی علامت ہے، جڑوں سے جڑا ہوا لیکن آسمان کی طرف بڑھتا ہوا۔ شاعری میں، یہ استحکام اور تبدیلی کی علامت ہے، وقت کے گزرنے اور فطرت کے چکروں کا گواہ۔

شاعر 'درخت' کا استعمال برداشت اور مضبوطی کی علامت کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ وقت کے گزرنے، جڑوں کی طاقت، یا نئی بلندیوں تک پہنچنے کی خواہش کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

شاعری میں، 'درخت' زندگی کی پائیدار روح کا ثبوت ہے، ان کہی کہانیوں کا ایک خاموش محافظ۔