Meaning of

دشت

dasht • दश्त

صحرا; جنگل

desert; wilderness

मरुस्थल; जंगल

Persian

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

مجھ کو ک
سے دشت سے لائی تھی ک
ہاں چھوڑ گئی
ان ہواؤں سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں

79

Download Image

ایک آواز پہ آ جاتی ہے دوڑی دوڑی
دشت و صحرا و بیابان نہیں دیکھتی ہے

دوستی دوستی ہوتی ہے تمہیں علم نہیں
دوستی فائدہ نقصان نہیں دیکھتی ہے

51

Download Image

دیواروں پر دستک دیتے دشت خاموش
دیواروں ہے وہ ہے وہ دروازے بن جائیں گے

40

Download Image

دشت چھوڑے ہوئے اب تو عرصہ ہوا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں مجنوں م
گر نام بدلا ہوا

مجھ کو عورت کے دکھ بھی پتا ہیں کہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ایک لڑکا ہوں بیوہ کا پالا ہوا

35

Download Image

وہی منزلیں وہی دشت و در تری دل زدوں کے ہیں راہبر
وہی آرزو وہی جستجو وہی راہ پر خطر جنوں

25

Download Image

اپنے ہمراہ جو آتے ہوں ادھر سے پہلے
دشت پڑتا ہے میاں عشق ہے وہ ہے وہ گھر سے پہلے

19

Download Image

دشت جیسی اجاڑ ہیں آنکھیں
ان دریچوں سے خواب کیا جھانکیں

18

Download Image

شغل تھا دشت نور
گرا کا کبھی اے تاباں
اب گلستاں ہے وہ ہے وہ بھی جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

15

Download Image

یہ ایک ابر کا ٹکڑا ک
ہاں ک
ہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے

15

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

مجھ کو ک
سے دشت سے لائی تھی ک
ہاں چھوڑ گئی
ان ہواؤں سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں

79

Download Image

یہ لفظ ایک بنجر منظرنامے کی وسعت اور تنہائی کو بیان کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر تنہائی، خود شناسی، اور فطرت کی سخت خوبصورتی کی علامت ہے۔

شاعر اسے تنہائی، بقا، اور اندرونی سفر کی تلاش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ سرسبز، زرخیز تصویروں کے برعکس لچک اور برداشت کو اجاگر کر سکتا ہے۔

اپنی خاموش وسعت میں، 'دشت' اندر کی وسعت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔