Meaning of

دکھڑا

dukhra • दुखड़ा

دکھڑا; غمگین کہانی

lament; sorrowful tale

विलाप; दुखभरी कहानी

Unknown

ب
سے اتنا سا ہے دکھڑا ہمارا
کوئی سنتا نہیں قصہ ہمارا

0

Download Image

یہ جو آنکھوں سے مری بہ رہے ہیں
تری ہونے کا دکھڑا سہ رہے ہیں

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب داڑھی تک آئی نہیں تھی
تبھی سے شعر اچھے کہ رہے ہیں

16

Download Image

ہم کو سلام بخیر کرتا ہے تو جتا جتا کر
جو روز خوب پیتا بھی ہے چھپا چھپا کر

ا
سے کی عجیب فطرت ہے راز کھولنے کی
جو راز پوچھتا ہے ہم کو ہنسا ہنسا کر

ا
سے شخص کی انا ا
سے کو ب
سے ڈوبا ہی دےگی
جو زہر بولتا ہے سب کو ڈرا ڈرا کر

حقیقت زخم تو کبھی بھرتے ہی نہیں دوا سے
جو زخم ب
سے دیے جاتے ہیں سنا سنا کر

ہم تو گئے تھے اپنا دکھڑا اسے سنا نے
ہم کو تھکا دیا ا
سے نے ب
سے بٹھا بٹھا کر

ا
سے بار زندگی ہم سے روٹھ ہی لگ جائے
ا
سے بار موت لے جائے گی رلا رلا کر

2

Download Image

سر پہ دنیا کے رکھ کر اپنا دکھڑا کیا رونا
دنیا دنیا ہی تو ہے ک
سے ک
سے کا غم پالےگی

1

Download Image

کم از کم دل صحیح سے توڑ جانا
ذرا اچھا تو ہوں دکھڑا ہمارا

0

Download Image

ب
سے اتنا سا ہے دکھڑا ہمارا
کوئی سنتا نہیں قصہ ہمارا

0

Download Image

یہ جو آنکھوں سے مری بہ رہے ہیں
تری ہونے کا دکھڑا سہ رہے ہیں

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب داڑھی تک آئی نہیں تھی
تبھی سے شعر اچھے کہ رہے ہیں

16

Download Image

دکھڑا لفظ غم اور ماتم کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ یہ غم کی کہانی ہے، جو دل کے خاموش گوشوں میں کھلتی ہے۔ شاعری میں، یہ گہرے درد کو بیان کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے، وہ درد جسے الفاظ مکمل طور پر پکڑنے میں جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ ان کہے کرب کی گونج ہے۔

شاعر اکثر 'دکھڑا' کا استعمال ذاتی غم کی گہرائی کو بیان کرنے یا اجتماعی تکلیف کی کہانیاں سنانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ کھوئے ہوئے محبت کے لیے ماتم، بھولے ہوئے خوابوں کے لیے مرثیہ، یا ناانصافی کے خلاف ایک پکار ہو سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'دکھڑا' غم کے مشترکہ انسانی تجربے کی دردناک یاد دہانی ہے۔