Meaning of

دشوار

dushwaar • दुश्वार

مشکل; دشوار; چیلنجنگ

difficult; arduous; challenging

कठिन; दुष्कर; चुनौतीपूर्ण

Persian

کئی دشواریاں گزری تمہارا غم نہیں پہچانی
زخم تھے جب بدن پہ کوئی مرہم نہیں پہچانی

6

Download Image

لبوں ہے وہ ہے وہ آ کے قلفی ہوں گئے اشعار سر
گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
غزل کہنا بھی اب تو ہوں گیا تو دشوار سر
گرا ہے وہ ہے وہ

47

Download Image

پہیلی زندگی کی کب تو اے نادان سمجھےگا
بے حد دشواریاں ہوںگی ا
گر آسان سمجھےگا

41

Download Image

کتنا دشوار ہے جذبوں کی تجارت کرنا
ایک ہی بے وجہ سے دو بار محبت کرنا

ج
سے کو جاناں چاہو کوئی اور لگ چاہے ا
سے کو
ا
سے کو کہتے ہیں محبت ہے وہ ہے وہ سیاست کرنا

31

Download Image

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

28

Download Image

جرم کی طرح محبت کو چھپا رکھا ہے
ہم گنہگار نہیں ہیں یہ بتائیں ک
سے کو

روٹھ جاتے تو منانا کوئی دشوار لگ تھا
حقیقت تعلق ہی لگ رکھیں تو رونگٹے ک
سے کو

19

Download Image

کسی سے عشق کرنا اور ا
سے کو با خبر کرنا
ہے اپنے زار دشوار کو دشوار تر کرنا

16

Download Image

سبھی کو ہے خبر یاں ان کی فطرت ہے دغا کرنا
بے حد آسان ہے عاشق کو ا
سے دل سے جدا کرنا

دغابازوں کی محفل سے یہ اک آواز آئی ہے
بے حد دشوار ہے دانش محبت ہے وہ ہے وہ وفا کرنا

15

Download Image

یہ ن
گرا ور
لگ تو کب کی پار تھی
مری رستے ہے وہ ہے وہ انا دیوار تھی

آپ کو کیا علم ہے ا
سے بات کا
زندگی مشکل نہیں دشوار تھی

تھیں عزائم دشمنوں کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اور مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ تلوار تھی

جل گئے اک روز سورج سے چراغ
روشنی کو روشنی درکار تھی

آج دنیا کے لبوں پر مہر ہے
کل تلک ہاں صاحب گفتار تھی

13

Download Image

خالی جیب ہی سب سے بھاری ہوتی ہے
چلنے ہے وہ ہے وہ کتنی دشواری ہوتی ہے

11

Download Image

کئی دشواریاں گزری تمہارا غم نہیں پہچانی
زخم تھے جب بدن پہ کوئی مرہم نہیں پہچانی

6

Download Image

لبوں ہے وہ ہے وہ آ کے قلفی ہوں گئے اشعار سر
گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
غزل کہنا بھی اب تو ہوں گیا تو دشوار سر
گرا ہے وہ ہے وہ

47

Download Image

لفظ 'دشوار' مشکل اور چیلنج کا اشارہ دیتا ہے، اکثر ان کاموں یا حالات کو بیان کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو بڑی محنت کا تقاضا کرتے ہیں۔ شاعری میں، یہ زندگی کی جدوجہد اور آزمائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔

شاعر 'دشوار' کا استعمال زندگی میں پیش آنے والے چیلنجوں کو بیان کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اکثر ذاتی جدوجہد یا کسی مقصد کی طرف مشکل سفر کے سیاق و سباق میں ظاہر ہوتا ہے۔

اپنے شاعرانہ روپ میں، 'دشوار' زندگی کی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لئے درکار عزم کو بیان کرتا ہے۔ یہ انسانی طاقت اور استقامت کا ثبوت ہے۔