Meaning of

فیض

faiz • फ़ैज़

عنایت; کرم; برکت; احسان

bounty; grace; favor; blessing

अनुग्रह; कृपा; आशीर्वाद; उपकार

Arabic

بھیڑ ہے وہ ہے وہ دھڑکنوں کی ف
سے چکی ہے زندگی فیض
میرا دم پلانا ہے ا
سے سے کہو باہر آئی

1

Download Image

فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم ج
ہاں پہنچے کامیاب آئی

39

Download Image

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

36

Download Image

مقام فیض کوئی راہ ہے وہ ہے وہ جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

34

Download Image

فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم ج
ہاں پہنچے کامیاب آئی

25

Download Image

انہی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے

21

Download Image

فیض حاصل ہے نظرے عالم ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ساز آرزو پہنچے تو پہنچے ا
سے غم ہے وہ ہے وہ

7

Download Image

کہ غزلیں حقیقت سنےگی اوروں کی بھی ساری لیکن
پڑھےگی ج
سے کو حقیقت ب
سے فیض کا چھوؤں گا ہوگا

4

Download Image

ہم نے تاکتے بھی سنے ہم نے سنا فیض کو بھی
جاناں سے بچھڑے تو سمجھ آیا حقیقت کہ کیا رہے تھے

4

Download Image

یوں ہی بے فیض سی بیکار سی دنیا ہے وہ ہے وہ ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
جینا پڑتا ہے کہ ماوں کے کلیجے نا پھٹیں

2

Download Image

بھیڑ ہے وہ ہے وہ دھڑکنوں کی ف
سے چکی ہے زندگی فیض
میرا دم پلانا ہے ا
سے سے کہو باہر آئی

1

Download Image

فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم ج
ہاں پہنچے کامیاب آئی

39

Download Image

فیض الہی عنایت یا سخاوت کا احساس دلاتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر محبت کی فراوانی یا کسی محبوب پر یا اعلیٰ طاقت کی طرف سے عطا کردہ سخاوت کی عکاسی کرتا ہے۔

شاعر 'فیض' کا ذکر جذبات کی دولت یا محبت میں ملنے والی برکتوں کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ عقیدت کے ذریعے حاصل کردہ روحانی دولت کی بھی نشاندہی کر سکتا ہے۔

فیض اس عنایت کی علامت ہے جو زندگی کے ذریعے بہتی ہے، اپنے نرم لمس سے ہر لمحے کو مالا مال کرتی ہے۔