Meaning of

فقیروں

faqiro'n • फ़क़ीरों

فقیر; سادھو; سنیاسی

beggars; mendicants; ascetics

भिखारी; साधु; संन्यासी

Arabic

آہ سے ان کی حکومت لگ پلٹ جائے کہی
حکمران ہوں کے فقیروں کو ستایا لگ کروں

2

Download Image

بنا کر فقیروں کا ہم بھی
سے تاکتے
تماشا اہل کرم دیکھتے ہیں

40

Download Image

تمہاری گالیوں کا اب اثر ہوتا نہیں مجھ پر
ذرا ہی دیر بیٹھا تھا ہے وہ ہے وہ صحبت ہے وہ ہے وہ فقیروں کی

33

Download Image

ہے وہ ہے وہ نے اعصاب کو پتھر کا بنا رکھا ہے
ایک دل ہے کہ جو بنتا نہیں پتھر جیسا

ہم فقیروں کو کبھی را
سے لگ آیا ورنا
ہم نے پایا تھا مقدر تو سکندر جیسا

15

Download Image

ہم فقیروں کی صورتوں پہ لگ جا
ہم کئی روپ دھار لیتے ہیں

زندگی کے ادا
سے لمحوں کو
مسکرا کر گزاری لیتے ہیں

15

Download Image

فقیروں سے لگ پوچھو جاناں خدا نے کیا دیا ان کو
یہ حقیقت بندے ہیں جن کو اب خدا سے چوٹ لگتی ہے

14

Download Image

کیوں کیا کرتے ہوں جاناں ظلم مسلسل ہم پر
جاناں ہوں انسان تو پھروں ا
سے حوالہ دے دو

جاناں کو ہے ناز بیگا
لگ غم پہ تو سن لو دانش
ہم فقیروں کو ذرا ایک نوالا دے دو

13

Download Image

ہم اپنا محل پھرتے ہے در بدر
فقیروں کی مانند ٹھائے بڑھا
پہ کا جسم

2

Download Image

اپنی جاں کی حفاظت بھی خود کرتے ہیں
اب فقیروں کو صدقہ نہیں دیتے لوگ

2

Download Image

یاری فقیروں سے رکھیں گے اب
دوری امیرو سے رکھیں گے اب

2

Download Image

آہ سے ان کی حکومت لگ پلٹ جائے کہی
حکمران ہوں کے فقیروں کو ستایا لگ کروں

2

Download Image

بنا کر فقیروں کا ہم بھی
سے تاکتے
تماشا اہل کرم دیکھتے ہیں

40

Download Image

'فقیروں' لفظ ان لوگوں کی تصویر پیش کرتا ہے جنہوں نے دنیاوی مال و دولت کو ترک کر دیا ہے۔ شاعری میں، یہ عاجزی، روحانی دولت اور مادی دولت سے پرے سچائی کی تلاش کی علامت ہے۔

شاعر 'فقیروں' کا استعمال مادی دولت اور روحانی تکمیل کے درمیان تضاد کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ سادگی اور اندرونی سکون کی خواہش کو بیدار کرتا ہے۔

شاعری میں، 'فقیروں' سچائی کے خاموش متلاشی ہیں، جو روحانی سفر کے جوہر کو مجسم کرتے ہیں۔