Meaning of

گرد

gard • ग़र्द

گرد; پاؤڈر

dust; powder

धूल; चूर्ण

Persian

سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا
ماں نے پھروں بھی قبر پہ ا
سے کی راج دلارا لکھا تھا

39

Download Image

اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم
اپنا گھر بھول گئے ان کی گلی بھول گئے

125

Download Image

تیری نگاہ ناز سے چھوٹے ہوئے درخت
مر جائیں کیا کریں بتا سوکھے ہوئے درخت

حیرت ہے پیڑ نیم کے دینے لگے ہیں آم
پگلا گئے ہیں آپ کے چو گرد امیر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئے درخت

96

Download Image

گھر ہے وہ ہے وہ گھستا ہوں تو لگتا ہے کہ ریگستان ہے
مری اک کمرے ہے وہ ہے وہ سارے شہر بھر کی گرد ہے

71

Download Image

مرتا رہے جو ہر گھڑی زندہ رہے گا عمر بھر
ہر بے وجہ کی گردن ہے وہ ہے وہ یہ فندہ رہے گا عمر بھر

71

Download Image

ا
سے نے دیکھا مجھ کو تو کنڈی لگانی چھوڑ دی
پھروں مری ہونٹوں پہ اک آدھی کہانی چھوڑ دی

ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھپائے پھروں رہا تھا عشق اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اور پھروں ظالم نے گردن پہ نشانی چھوڑ دی

67

Download Image

گھر ہے وہ ہے وہ گھستا ہوں تو لگتا ہے کہ ریگستان ہے
مری اک کمرے ہے وہ ہے وہ سارے شہر بھر کی گرد ہے

63

Download Image

یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں
کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

56

Download Image

ہے وہ ہے وہ ا
سے کے بعد صرف انہی کوششوں ہے وہ ہے وہ ہوں
گردن سے ا
سے کے نام کا ٹیٹو نکل سکے

44

Download Image

محبت رتجگے آوارہ گر
گرا
ضروری کام سارے ہوں رہے ہیں

42

Download Image

سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا
ماں نے پھروں بھی قبر پہ ا
سے کی راج دلارا لکھا تھا

39

Download Image

اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم
اپنا گھر بھول گئے ان کی گلی بھول گئے

125

Download Image

گرد کا لفظ ہوا میں معلق باریک ذرات کی تصویر کو بیدار کرتا ہے، جو عارضی اور ناپائیداری کی علامت ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر زندگی کی عارضی نوعیت اور وقت کے ناگزیر گزرنے کی نمائندگی کرتا ہے۔

شاعر 'گرد' کا استعمال زندگی کے عارضی لمحات، وقت کے ساتھ بیٹھنے والی یادوں کی گرد کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ 'خاک' کے برعکس ہے، جو زیادہ مستحکم، زمینی گرد کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'گرد' زندگی کی عارضی خوبصورتی کے جوہر کو پکڑتا ہے۔ یہ موجودگی اور عدم موجودگی کے درمیان نازک توازن کی یاد دلاتا ہے۔