Meaning of

غرض

ghaz • ग़र्ज़

مقصد; ارادہ; ہدف

purpose; intention; aim

उद्देश्य; इरादा; लक्ष्य

Arabic

لوگ ہم سے سیکھتے ہیں غم چھپانے کا ہنر
آؤ جاناں کو بھی سکھا دیں مسکرانے کا ہنر

کیا غضب ہے تجربے کی بھینٹ جاناں ہی چڑھ گئے
جاناں سے ہی سیکھا تھا ہم نے دل دکھانے کا ہنر

60

Download Image

یہ دکھ ا
پیش ہے کہ ا
سے سے ہے وہ ہے وہ دور ہوں رہا ہوں
یہ غم جدا ہے حقیقت خود مجھے دور کر رہا ہے

تری چیزیں پر لکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ تازہ غزلیں
یہ تیرا غم ہے جو مجھ کو مشہور کر رہا ہے

395

Download Image

اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری
لوگ تجھ کو میرا محبوب سمجھتے ہوں گے

114

Download Image

ہے وہ ہے وہ کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں
پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

94

Download Image

مری غزل کی طرح ا
سے کی بھی حکومت ہے
تمام ملک ہے وہ ہے وہ حقیقت سب سے خوبصورت ہے

بے حد دنوں سے مری ساتھ تھی م
گر کل شام
مجھے پتا چلا حقیقت کتنی خوبصورت ہے

80

Download Image

آپ کی آنکھیں ا
گر شعر سنہانے لگ جائیں
ہم جو غزلیں لیے پھرتے ہیں ٹھکانے لگ جائیں

77

Download Image

چاند سا مصرعہ اکیلا ہے مری کاغذ پر
چھت پہ آ جاؤ میرا شعر مکمل کر دو

76

Download Image

لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اردو ہے وہ ہے وہ غزل کہتا ہوں ہن
گرا مسکراتی ہے

69

Download Image

ہم اک ہی لو ہے وہ ہے وہ جلاتے رہے غزل اپنی
نئی ہوا سے بچاتے رہے غزل اپنی

در اصل اس کا کو فقط چائے ختم کرنی تھی
ہم ا
سے کے کپ کو سناتے رہے غزل اپنی

68

Download Image

ہر شعر ہر غزل پہ ہے ایسی چھاپ تیری
تصویر بن رہی ہے اک اپنے آپ تیری

تری لیے کسی کو اتنا دیوا
لگ دیکھا
لگنے لگی ہے مجھ کو چاہت بھی پاپ تیری

61

Download Image

لوگ ہم سے سیکھتے ہیں غم چھپانے کا ہنر
آؤ جاناں کو بھی سکھا دیں مسکرانے کا ہنر

کیا غضب ہے تجربے کی بھینٹ جاناں ہی چڑھ گئے
جاناں سے ہی سیکھا تھا ہم نے دل دکھانے کا ہنر

60

Download Image

یہ دکھ ا
پیش ہے کہ ا
سے سے ہے وہ ہے وہ دور ہوں رہا ہوں
یہ غم جدا ہے حقیقت خود مجھے دور کر رہا ہے

تری چیزیں پر لکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ تازہ غزلیں
یہ تیرا غم ہے جو مجھ کو مشہور کر رہا ہے

395

Download Image

’غرض‘ لفظ سمت اور توجہ کا احساس دلاتا ہے۔ یہ ان اندرونی محرکات کی بات کرتا ہے جو اعمال اور فیصلوں کو تحریک دیتے ہیں۔ شاعری میں، یہ ایک عدسہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے شاعر انسانی خواہش اور امنگ کی گہری لہروں کا جائزہ لیتا ہے۔

شاعر اکثر 'غرض' کا استعمال امنگ اور آرزو کے موضوعات کو دریافت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان اشعار میں نظر آتا ہے جو خواہش کی نوعیت اور اسے پورا کرنے کے لیے منتخب کردہ راستوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ لفظ انسانی کوششوں کی عظمت اور حماقت دونوں کو اجاگر کر سکتا ہے۔

شاعری میں، 'غرض' ایک آئینہ ہے جو انسانی تجربے کو شکل دینے والی امنگوں اور خواہشات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ خود شناسی اور انکشاف کا لفظ ہے۔