Meaning of

گور

gor • गोर

قبر; مزار

grave; tomb

कब्र; समाधि

Persian

ا
سے دنیا ہے وہ ہے وہ گھٹیا لوگوں کی خاطر
پھولوں کو بھی پتھر ہونا پڑتا ہے

گوری سا جیون ساتھی پانا ہوں تو
پہلے تھوڑا شنکر ہونا پڑتا ہے

2

Download Image

جب سے حقیقت سمندر پار گیا تو
گوری نے سنورنا چھوڑ دیا

32

Download Image

اپنے جادو پہ بے حد ناز لگ کر فرمائش
کوئی جادو ہوں حقیقت ٹیگور ہے وہ ہے وہ کٹ جاتا ہے

31

Download Image

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا ک
ہاں سے اٹھتا ہے

گور ک
سے دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

26

Download Image

محروم ہوں میں خدمت استاد سے منیر
کلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہو گیا

24

Download Image

ٹک گور غریباں کی کر سیر کہ دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ان ظلم رسیدوں پر کیا کیا لگ ہوا ہوگا

19

Download Image

ا
سے کی ساری کرنےوالے کو اب باطل ہی ہم بولیں گے
ا
سے کے سارے لنگوروں کو بزدل ہی ہم بولیں گے

ا
سے ظالم کی ا
سے گن
گرا سازش سے بلکل مت ڈرنا
قاتل کو پوری طاقت سے قاتل ہی ہم بولیں گے

14

Download Image

ک
سے لیے ناراض جاناں ہوں بےوفا
دلجلوں کا ناز جاناں ہوں بےوفا

میر جعفر ایک تھا ٹیگور ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ایک دھوکےباز جاناں ہوں بےوفا

5

Download Image

چاکلیٹ کی دیوانی تو ساری دنیا ہے
ایک دودھ سی گوری میم کا ہوں ہے وہ ہے وہ عاشق

4

Download Image

فرشتے فرصت ہے وہ ہے وہ بیٹھ کر لکھتے ہیں کسی کا خراب ہونا
ہر انگور کی قسمت ہے وہ ہے وہ نہیں ہوتا ہے شراب ہونا

4

Download Image

ا
سے دنیا ہے وہ ہے وہ گھٹیا لوگوں کی خاطر
پھولوں کو بھی پتھر ہونا پڑتا ہے

گوری سا جیون ساتھی پانا ہوں تو
پہلے تھوڑا شنکر ہونا پڑتا ہے

2

Download Image

جب سے حقیقت سمندر پار گیا تو
گوری نے سنورنا چھوڑ دیا

32

Download Image

اپنے اصل معنی میں 'گور' مرنے والوں کی آرام گاہ کو ظاہر کرتا ہے، ایک مقدس اور سنجیدہ مقام۔ شاعری نے اسے زندگی کی آخری حد، موت کے راز اور اس کے بعد کی خاموشی کی علامت بنا دیا ہے۔ یہ لفظ سکون اور خود شناسی کے احساس کو بیدار کرتا ہے، اکثر وجود کی عارضی نوعیت پر غور کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

شاعر اکثر 'گور' کا استعمال موت اور وقت کے ناگزیر گزرنے کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ سفر کے اختتام یا ابدی آرام کے آغاز کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ زندگی کی رونق کے برعکس ہے، قبولیت میں ملنے والے سکون کو اجاگر کرتا ہے۔

'گور' کی خاموش آغوش میں، زندگی کی عارضی نوعیت پر گہرا غور و فکر ملتا ہے۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو تفکر اور سکون کی دعوت دیتا ہے۔