Meaning of

گلشن

gulshan • गुलशन

باغ; جنت

garden; paradise

बाग; स्वर्ग

Persian

ہم کو ا
سے کی کیا خبر گلشن کا گلشن جل گیا تو
ہم تو اپنا صرف اپنا آشیاں دیکھا کیے

8

Download Image

گھر کی تقسیم ہے وہ ہے وہ انگنائی گنوا بیٹھے ہیں
پھول گلشن سے شنا سائی گنوا بیٹھے ہیں

بات آنکھوں سے سمجھ لینے کا دعویٰ مت کر
ہم اسی شوق ہے وہ ہے وہ بینائی گنوا بیٹھے ہیں

59

Download Image

گلشن سے کوئی پھول میسر لگ جب ہوا
تتلی نے راکھی باندھ دی کانٹے کی نوک پر

42

Download Image

एक तितली से वा'दा है सो गुलशन में,
ग़लती से भी ख़ार नहीं देखूँगा मैं

(ख़ार- काँटे )

37

Download Image

اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن ہے وہ ہے وہ کوہرام مچا
اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے

30

Download Image

گلوں ہے وہ ہے وہ رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

30

Download Image

کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بو گلشن ہے وہ ہے وہ ہے وہ
لب بہار سے نکلی ہوئی دعا جاناں ہوں

28

Download Image

گل کہ گلشن کو سنا ہے جاناں چرانا چاہتے ہوں
آج پھروں مجھ کو گلے سے جاناں لگانا چاہتے ہوں

28

Download Image

کوئی امید مت سزا گلشن
تری خوشبو کا واسطہ ہے تجھے

13

Download Image

چمن ہے وہ ہے وہ رکھتے ہیں کانٹے بھی اک مقام اے دوست
فقط گلوں سے ہی گلشن کی رکھ تو نہیں

13

Download Image

ہم کو ا
سے کی کیا خبر گلشن کا گلشن جل گیا تو
ہم تو اپنا صرف اپنا آشیاں دیکھا کیے

8

Download Image

گھر کی تقسیم ہے وہ ہے وہ انگنائی گنوا بیٹھے ہیں
پھول گلشن سے شنا سائی گنوا بیٹھے ہیں

بات آنکھوں سے سمجھ لینے کا دعویٰ مت کر
ہم اسی شوق ہے وہ ہے وہ بینائی گنوا بیٹھے ہیں

59

Download Image

لفظ 'گلشن' سرسبز باغات اور جنتی مناظر کی تصاویر پیش کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر خوبصورتی اور سکون کی ایک مثالی جگہ کی نمائندگی کرتا ہے، جو دنیا کی افراتفری سے ایک پناہ گاہ ہے۔

شاعر 'گلشن' کا استعمال ایک مثالی دنیا کو پیش کرنے یا کھوئی ہوئی جنت کی خواہش کے اظہار کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دل کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جہاں جذبات پھولوں کی طرح کھلتے ہیں۔

شاعری میں، 'گلشن' دل کی گہری خواہشات اور خوبصورتی کی ابدی تلاش کی علامت بن جاتا ہے۔