Meaning of

موتی

intihaa • इन्तिहा

انت; حد; انتہا

end; limit; extremity

अंत; सीमा; चरम

Arabic

ہم بھٹکتے رہے ہیں ی
ہاں در بدر
جاناں نے آ کر کے جیون سنوارا پریے

جب مری درد کی انتہا ہوں گئی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پنو پہ جاناں کو اتارا پریے

1

Download Image

یاد اسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم ا
سے کی برائی کرتے ہیں

44

Download Image

فرشتوں سے بھی اچھا ہے وہ ہے وہ برا ہونے سے پہلے تھا
حقیقت مجھ سے انتہائی خوش خفا ہونے سے پہلے تھا

40

Download Image

آنسو ہمارے گر گئے ان کی نگاہ سے
ان موتیوں کی اب کوئی قیمت نہیں رہی

22

Download Image

جو موتیوں کی طلب نے کبھی ادا
سے کیا
تو ہم بھی راہ سے کنکر سمیٹ لائے بے حد

9

Download Image

کسی کو کھونا ہوں تو اک طریقہ ہے
محبت ا
سے سے جاناں بے انتہا کرنا

4

Download Image

پتلیوں ہے وہ ہے وہ گھلا سمندر ہے
موتیوں کی دکان آنکھیں ہیں

آپ تحقیق ہی نہیں کرتے
سب خزانوں کی خان آنکھیں ہیں

3

Download Image

چلا آیا مکان خالی کرا کر ہے وہ ہے وہ ہے وہ
جلے ہیں آشیانے موتی کے بھی

3

Download Image

گھٹن کی اندھیرا پر پوچھتے ہیں حال کیسا ہے
کہ ان کا پوچھنا یوں حال بھی جنجال جیسا ہے

ہنر ہے اور قابل ہوں م
گر کیا ہی اکھاڑوگے
چلن ا
سے کا ہے ماہی آج ج
سے کے پا
سے بڑھانے ہے

2

Download Image

دل دھڑکنا میرا بے وجہ تو نہیں
پیار بے انتہا ہے مجھے آپ سے

1

Download Image

ہم بھٹکتے رہے ہیں ی
ہاں در بدر
جاناں نے آ کر کے جیون سنوارا پریے

جب مری درد کی انتہا ہوں گئی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پنو پہ جاناں کو اتارا پریے

1

Download Image

یاد اسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم ا
سے کی برائی کرتے ہیں

44

Download Image

انتہا کا لفظ اس آخری نقطے کا احساس دلاتا ہے جہاں حدود ختم ہو جاتی ہیں اور تکمیل کا جوہر محسوس ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر جذبات کے عروج کی علامت ہوتا ہے، چاہے وہ خوشی ہو یا غم، انسانی تجربے کی گہرائی کو پکڑتا ہے۔

شاعر اکثر 'انتہا' کا استعمال محبت، مایوسی یا خوبصورتی کی آخری حدود کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ جذباتی سفر کی چوٹی یا لمحے کی آخری حد کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ آغاز کے برعکس ہوتا ہے، وجود کی چکروی نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'انتہا' زندگی کی عارضی نوعیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ اختتام کی روح کو پکڑتا ہے، اختتام میں پائی جانے والی خوبصورتی پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔