Meaning of

اضافہ

izafa • इज़ाफ़ा

اضافہ; بڑھوتری; اضافہ

addition; increase; augmentation

वृद्धि; बढ़ोतरी; जोड़

Arabic

دکھوں ہے وہ ہے وہ اضافہ خوشیوں کا نقصان مت کروں
گزر جاؤ یار زندگی احسان مت کروں

0

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

بے حد ہیں لوگ دنیا ہے وہ ہے وہ م
گر پھروں بھی
ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں ب
سے اضافت جانوی سے ہے

6

Download Image

محبت ہے وہ ہے وہ اضافہ ہوں رہا ہے
م
گر خرچہ زیادہ ہوں رہا ہے

4

Download Image

مری ہر غم ہے وہ ہے وہ حقیقت اضافہ دانستہ کرتی ہے
اور یہ کام بھی حقیقت کترتے کرتی ہے

3

Download Image

قلب حزیں متاع جاں یوں شاد کیجیے
کثرت کے ساتھ آپ ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ یاد کیجیے

دولت ہے وہ ہے وہ چاہتے ہوں اضافہ ا
گر شجر
تو بیکسوں داڑھیاں کی امداد کیجیے

1

Download Image

محبت ہے وہ ہے وہ اضافہ کر گیا تو ہے
مجھے حقیقت پھروں اشارہ کر گیا تو ہے

1

Download Image

ا
سے چھڑکتا کو چھوڑ ا
سے سے
اب غم ہے وہ ہے وہ اضافہ ہوتا ہے

1

Download Image

دکھوں ہے وہ ہے وہ اضافہ خوشیوں کا نقصان مت کروں
گزر جاؤ یار زندگی احسان مت کروں

0

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

اضافہ کا لفظ بڑھوتری اور وسعت کا اشارہ دیتا ہے، خوشحالی کی طرف ایک حرکت۔ شاعری میں، یہ اکثر روح کی افزائش کا علامت ہوتا ہے، جہاں تجربات اور جذبات انسان کے وجود میں تہیں شامل کرتے ہیں۔

شاعر 'اضافہ' کا استعمال بڑھوتری اور تبدیلی کے موضوعات کو ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو زندگی کی ترقی اور پھلنے پھولنے کی صلاحیت کی بات کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'اضافہ' بڑھوتری کی لامتناہی امکانات اور زندگی کے کھلنے کی خوبصورتی کی یاد دہانی ہے۔