Meaning of

کر و فر

karr-o-farr • कर्र-ओ-फ़र्र

دھوم دھام; شان و شوکت

pomp and show; grandeur

धूमधाम; भव्यता

Persian

مکر و فریب ظلم جہالت فجور سے
گستاخیوں کے دہر سے خود کو نکال لو

تہذیب و علم و فن یہ تمدن ادب شجر
لو اپنے خانوادے کا ورثہ سنبھال لو

1

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

اپنی حیات کاٹ کے مکر و فریب ہے وہ ہے وہ ہے وہ
بچوں سے کہ رہے ہیں برے کام مت کروں

3

Download Image

مکر و فریب ظلم جہالت فجور سے
گستاخیوں کے دہر سے خود کو نکال لو

تہذیب و علم و فن یہ تمدن ادب شجر
لو اپنے خانوادے کا ورثہ سنبھال لو

1

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

یہ لفظ شان و شوکت اور عظمت کی تصاویر کو ابھارتا ہے، ایک ایسی دنیا جو عیش و عشرت سے مزین ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر دنیاوی عظمت کی عارضی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے، ایک عارضی تماشا جو چمکتا ہے لیکن ماند پڑ جاتا ہے۔

شاعر اسے دولت اور طاقت کی سطحی پن کی تنقید کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ان لمحات کی کڑوی مٹھاس کو بھی ابھار سکتا ہے جو شاندار ہیں لیکن عارضی۔ اکثر، یہ سادگی اور عاجزی کے برعکس ہوتا ہے۔

شاعری میں، عظمت ایک جشن اور ایک انتباہ دونوں ہے، زندگی کی عارضی شان کی یاد دہانی۔