Meaning of

خار

khaar • ख़ार

خار; چبھن; رکاوٹ

thorn; prick; obstacle

काँटा; चुभन; बाधा

Arabic

مانا کہ ا
سے ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو لگ دل ناشاد کر سکے
کچھ بچھاؤ کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم

22

Download Image

حسن بلا کا قاتل ہوں پر آخر کو بیچارا ہے
عشق تو حقیقت قاتل ج
سے نے اپنوں کو بھی مارا ہے

یہ دھوکے دیتا آیا ہے دل کو بھی دنیا کو بھی
ا
سے کے چل نے خار کیا ہے صحرا ہے وہ ہے وہ لیلیٰ کو بھی

129

Download Image

تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے
صبح کا تارا کتنا پیارا لگتا ہے

جاناں سے مل کر املی میٹھی لگتی ہے
جاناں سے بچھڑ کر شہد بھی خارا لگتا ہے

72

Download Image

عمر گزری ہے مانجھتے خود کو
صاف ہیں پر چمک نہیں پائے

ڈال نے پھول کی طرح پالا
بچھاؤ تھے نا مہک نہیں پائے

49

Download Image

بہر سے خارج ہوں یہ معلوم ہے
پر تمہاری ہی غزل کا شعر ہوں

43

Download Image

एक तितली से वा'दा है सो गुलशन में,
ग़लती से भी ख़ार नहीं देखूँगा मैं

(ख़ार- काँटे )

37

Download Image

جاناں کلی پر نکھار آنے دو
دیکھنا ڈال خود جھٹک دےگی

37

Download Image

یہ دھوکے دیتا آیا ہے دل کو بھی دنیا کو بھی
ا
سے کے چل نے خار کیا ہے صحرا ہے وہ ہے وہ لیلیٰ کو بھی

37

Download Image

غم ہے وہ ہے وہ ہم صورت غمخوار نہیں پیسہ ہیں
ا
سے
لیے میر کے اشعار نہیں پیسہ ہیں

مری آنکھیں تیری تصویر سے جا لگتی ہیں
صبح اٹھکر سبھی ذائقہ نہیں پیسہ ہیں

31

Download Image

ہے وہ ہے وہ نے اپنی غزلیں سنبھالا کر ڈالی
سوچو مری جان تمہارا کیا ہوگا

25

Download Image

مانا کہ ا
سے ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو لگ دل ناشاد کر سکے
کچھ بچھاؤ کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم

22

Download Image

حسن بلا کا قاتل ہوں پر آخر کو بیچارا ہے
عشق تو حقیقت قاتل ج
سے نے اپنوں کو بھی مارا ہے

یہ دھوکے دیتا آیا ہے دل کو بھی دنیا کو بھی
ا
سے کے چل نے خار کیا ہے صحرا ہے وہ ہے وہ لیلیٰ کو بھی

129

Download Image

خار کا لفظ تیزی اور درد کی تصاویر کو ابھارتا ہے، پھر بھی شاعری میں یہ اکثر زندگی کی پیش کردہ چیلنجوں اور رکاوٹوں کی علامت ہوتا ہے۔ یہ زندگی کے کانٹے دار راستوں سے گزرنے کے لئے درکار استقامت اور مصیبت کے درمیان پائی جانے والی خوبصورتی کی بات کرتا ہے۔

شاعر 'خار' کا استعمال انسانی روح کی آزمائش کرنے والے امتحانات کو پیش کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ نامکمل خواہشات کے درد اور مشکلات کو عبور کرنے سے حاصل ہونے والی طاقت کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ اکثر محبت اور تڑپ کے استعاروں میں ظاہر ہوتا ہے، جہاں دل کا سفر کانٹوں سے بھرا ہوتا ہے۔

اپنی شاعرانہ اصل میں، 'خار' استقامت میں پائی جانے والی خوبصورتی کا ثبوت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کانٹوں کے درمیان بھی روح کھل سکتی ہے۔