Meaning of

خفا

khafa • ख़फ़ा

ناراض; ناخوش; خفا

angry; displeased; offended

नाराज़; अप्रसन्न; खिन्न

Arabic

دیر سے آنے پر حقیقت خفا تھا آخر مان گیا تو
آج ہے وہ ہے وہ اپنے باپ سے ملنے قبرستان گیا تو

38

Download Image

منا بھی لوں گا گلے بھی لگاؤں گا ہے وہ ہے وہ علی
ابھی تو دیکھ رہا ہوں اسے خفا کر کے

100

Download Image

آج پہلی دفع لگا مجھ کو
حقیقت ذرا بےوفا لگا مجھ کو

ب
سے بنا بات ہی بگڑتا تھا
بے پناہ ہی خفا لگا مجھ کو

81

Download Image

بے پناہ مجھ سے پھروں خفا کیوں ہے
یہ کہانی ہی ہر دفع کیوں ہے

کچھ بھی مجبوری تو نہیں دکھتی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا جانوں حقیقت بےوفا کیوں ہے

80

Download Image

ک
سے ک
سے کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

53

Download Image

جاناں محبت سے نہیں مجھ سے خفا ہوں شاید
جاناں ا
گر چاہو تو پنجرہ بھی بدل سکتے ہوں

منتظر ہوں ہے وہ ہے وہ سو نمبر بھی نہیں بدلوں گا
اور جاناں شہر کا نقشہ بھی بدل سکتے ہوں

51

Download Image

یار ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مزہ ہے ہی نہیں
کوئی بھی ہم سے خفا ہے ہی نہیں
عشق ہی عشق ہے محسو
سے کروں
اور کچھ ا
سے کے سوا ہے ہی نہیں

47

Download Image

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہوں جانا
ج
سے طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہوں جانا

45

Download Image

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے
تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

43

Download Image

فرشتوں سے بھی اچھا ہے وہ ہے وہ برا ہونے سے پہلے تھا
حقیقت مجھ سے انتہائی خوش خفا ہونے سے پہلے تھا

40

Download Image

دیر سے آنے پر حقیقت خفا تھا آخر مان گیا تو
آج ہے وہ ہے وہ اپنے باپ سے ملنے قبرستان گیا تو

38

Download Image

منا بھی لوں گا گلے بھی لگاؤں گا ہے وہ ہے وہ علی
ابھی تو دیکھ رہا ہوں اسے خفا کر کے

100

Download Image

خفا لفظ میں جذباتی اضطراب کی لطافت ہے، جو اکثر ذاتی یا قریبی اختلاف کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ شاعری میں، یہ محض غصے سے آگے بڑھ کر، مجروح فخر یا خاموش تکلیف کی علامت بن جاتا ہے۔

خفا کا استعمال شاعر اکثر ان کہے گلے شکوے اور تعلقات کی نزاکت کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ عاشق کے خاموش آنسو یا دوستوں کے درمیان خاموش فاصلے کی تصویر پیش کر سکتا ہے۔

اپنی خاموشی میں، 'خفا' دل کے ان کہے اضطراب کو بخوبی بیان کرتا ہے۔