Meaning of

خمی

khami • ख़मी

کمی; نقص

deficiency; imperfection

कमी; अपूर्णता

Persian

تو مری ہنستے ہوئے چہرے پہ مت جا
ایک اڑھائی آدمی ہے مری اندر

0

Download Image

اک پتنگے حقیقت تھے ملے تو بات کچھ ان سے ہوئی
عشق ہے وہ ہے وہ ورنا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر بار خمیازہ ہوا

6

Download Image

مضبوطیوں سمیٹ کے سارے جہان کی
جب کچھ لگ بن سکا تیری آنکھیں بنائیں تب

ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق ہوں رکا لگ کسی بھی قف
سے ہے وہ ہے وہ تو
زخمی بھری یہ سلاخیں بنائیں تب

5

Download Image

کسی اک بےوفا پہ دل جو ہارا تھا
وہی ہاں مر گیا تو جو غم کا مارا تھا

ہمارا جسم اڑھائی ہونا لازم تھا
ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے آ
سماں کو ڈھیلا مارا تھا

کسی گڈھے ہے وہ ہے وہ لازم تھا میرا گرنا
ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے چاند جو ہے وہ ہے وہ نے نہہارا تھا

بے حد ہی دیر کر دی لوٹنے ہے وہ ہے وہ یار
خدا کا ہوں گیا تو حقیقت جو تمہارا تھا

خدا کو پیارا ہوگا کس کو تھا معلوم
جو جاناں کو ہم کو اس کا کو سب کو پیارا تھا

2

Download Image

تیری نظر سے کوئی روز زخمی ہوتا ہے
خیال رکھنا کسی دن حقیقت مارا لگ جائیں

1

Download Image

ذہن اڑھائی ہے بد خیالوں سے
بات گر نفسیاٹی کی جاتی

1

Download Image

یہ سوچ مت جو جسم بن کپڑا دکھوں ہے وہ ہے وہ گھومتا
اڑھائی پھروں ہر سو م
گر مجھ پر دعاؤں کا کرم

0

Download Image

تجھ کو بھلا کے دیکھوں یا ب
سے تجھ کو سوچوں
دونوں شکلوں ہے وہ ہے وہ میرا دل اڑھائی ہوگا

0

Download Image

ہم کو عمر سے خطرہ ہی خطرہ ہے
سر سے پیروں تک اڑھائی کر دےگی

0

Download Image

تو مری ہنستے ہوئے چہرے پہ مت جا
ایک اڑھائی آدمی ہے مری اندر

0

Download Image

اک پتنگے حقیقت تھے ملے تو بات کچھ ان سے ہوئی
عشق ہے وہ ہے وہ ورنا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر بار خمیازہ ہوا

6

Download Image

خمی انسانی تجربے کو متعین کرنے والی اندرونی خامیوں اور نقصانات کی بات کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ کمزوری اور ہماری حدود کے اندر پائی جانے والی خوبصورتی کے لیے ایک استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ اپنی خامیوں کو قبول کرنے پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

شاعر اکثر 'خمی' کا استعمال نقص اور ترقی کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خود قبولیت کی سفر کی علامت ہو سکتا ہے یا خامیوں میں خوبصورتی کو اجاگر کر سکتا ہے۔ یہ لفظ انسانی حالت کی پیچیدگی کی یاد دہانی کراتا ہے۔

'خمی' کو اپنانے میں، شاعر روح کی حقیقی فطرت کا آئینہ پاتے ہیں۔ ہماری خامیوں میں ہی ہم اپنی سب سے گہری سچائیوں کی دریافت کرتے ہیں۔