Meaning of

لرز

larj • लरज

کانپنا; تھرتھرانا

tremble; shiver

काँपना; थरथराना

Persian

شم
سے پر کوہرے کی تھوڑی گرد ہے
دھوپ ہے شاہد و ساقی سی موسم سرد ہے

شاخ پر یہ کیفیت ہے پھول کی
جسم ہے وہ ہے وہ لرزہ ہے چہرہ زرد ہے

0

Download Image

دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

35

Download Image

ان لرزتے لبوں سے کیوں تو نے
سرخ آنکھوں کو پھروں چھوا ہی نہیں

30

Download Image

میری خاموشیوں ہے وہ ہے وہ لرزاں ہے
میرے نالوں کی گم شدہ آواز

25

Download Image

پیروں ہے وہ ہے وہ لرزش ہار کا سندیشہ ہے
ہمت سفلتہ کی اکیلی ساتھی ہے

10

Download Image

میرا اس کا کو جب چومنے کا ہوا من
حقیقت لرزہ کے بولی اجازت مجھے ہے

2

Download Image

پتا مجھ کو تیرا یہ دل مجھہی سے عشق کو لرزے
کروں ہے وہ ہے وہ کیا لگی ہے بھیڑ لیلاؤں کی پہلے سے

2

Download Image

لرز رہی ہیں گلستاں ہے وہ ہے وہ پتیاں گل کی
یہ لگ رہا ہے کوئی حادثہ نیا ہوگا

1

Download Image

یاں جب بھی گلابوں کو ہے وہ ہے وہ ہاتھ لگاتا ہوں
کیا جان مری واں تری ہونٹ لرزتے ہیں

0

Download Image

سفر کے سمے حقیقت مجھ کو سوار کرتے ہوئے
لرزتے ہونٹوں سے بولی شجر خدا حافظ

0

Download Image

شم
سے پر کوہرے کی تھوڑی گرد ہے
دھوپ ہے شاہد و ساقی سی موسم سرد ہے

شاخ پر یہ کیفیت ہے پھول کی
جسم ہے وہ ہے وہ لرزہ ہے چہرہ زرد ہے

0

Download Image

دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

35

Download Image

لرز لفظ اس نازک احساس کو بیان کرتا ہے جو خوف یا سردی سے وابستہ ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ ان لمحات کی نازکی اور ناپائیداری کو پکڑتا ہے جب دل یا روح گہری جذبات سے متاثر ہوتی ہے۔

لرز کا استعمال شاعر پتوں کے ہوا میں کانپنے، عاشق کے دل کی تھرتھراہٹ، یا مضطرب روح کی نازک حالت کو بیان کرنے کے لئے کرتے ہیں۔

اپنی لرزش میں، 'لرز' طاقت اور نازکی کے درمیان خاموش مکالمے کو ظاہر کرتا ہے۔