Meaning of

جلوے

makeen • मकीं

رہائشی; مکین; باسی

dweller; resident; inhabitant

निवासी; रहने वाला; बाशिंदा

Arabic

تھے جو باطل فلک پر جلوے ہوں گئے
حق لیے ہے وہ ہے وہ ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر ٹہلتا رہا

2

Download Image

مکین دل کو خانوما خرا
بیاں سے عشق تھا
قیام ڈھونڈتا رہا تمہاری چھت کے بعد بھی

27

Download Image

ج
سے کو دیکھا نہیں کئی دن سے
حقیقت ہے دل ہے وہ ہے وہ جلوے کئی دن سے

خشک دریا سے مجھ کو یاد آیا
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی رویا نہیں کئی دن سے

19

Download Image

نمکیں گویا کباب ہیں فیکے شراب کے
بوسہ ہے تجھ لباں کا مزے دار چٹپٹا

11

Download Image

جاناں نے ب
سے بازار ہے وہ ہے وہ جلوے دیکھے ہیں
ہم نے بھیڑ ہے وہ ہے وہ کھوتے بچے دیکھے ہیں

7

Download Image

محبت آبگینوں ہے وہ ہے وہ حسینوں پردہ ادراک ہے وہ ہے وہ ہے وہ
بڑی وحشت سی ہوتی ہے دلوں کے ان مکینوں ہے وہ ہے وہ

7

Download Image

یہ جانتے ہیں ٹھیک نہیں مانگ رہے ہیں
ہم ایک کھنڈر کو جلوے مانگ رہے ہیں

سب مانگ رہے ہیں خدا سے تیرا جسم اور
ہم ہیں کہ فقط تیری جبیں مانگ رہے ہیں

5

Download Image

ہے وہ ہے وہ جلوے آپ کو اپنے ہنر کے تو دکھاؤں گا
م
گر کہ کے نہیں اب کچھ ہے وہ ہے وہ کر کے تو دکھاؤں گا

5

Download Image

جلوے سارے مکان کے چلے گئے کب کے
فقط ہے وہ ہے وہ ہوں ی
ہاں اور یہ سکوت تاری ہے

4

Download Image

کل ابن آدم ان پہ قربان ہوں لگ جائیں
توبہ حقیقت ان کے جلوے اللہ حقیقت نظارے

4

Download Image

تھے جو باطل فلک پر جلوے ہوں گئے
حق لیے ہے وہ ہے وہ ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر ٹہلتا رہا

2

Download Image

مکین دل کو خانوما خرا
بیاں سے عشق تھا
قیام ڈھونڈتا رہا تمہاری چھت کے بعد بھی

27

Download Image

مکین کا لفظ سکونت اور مستقل مزاجی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر دل کی رہائش کی علامت ہوتا ہے، جہاں جذبات بستے ہیں اور سکون پاتے ہیں۔ یہ آرام اور واقفیت کی جگہ کا اشارہ دیتا ہے، جہاں انسان واقعی گھر جیسا محسوس کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'مکین' کا استعمال دل کو محبت اور آرزو کے مسکن کے طور پر بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دنیا کی عارضی نوعیت کے برعکس، جذبات کے ابدی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ محبوب کو روح کے آخری مسکن کے طور پر بھی پیش کر سکتا ہے۔

شاعرانہ دنیا میں، 'مکین' دل کے ابدی پناہ گاہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں روح اپنا حقیقی گھر پاتی ہے۔