Meaning of

مکر

makr • मक्र

دھوکہ; چالاکی; فریب

deceit; cunning; trickery

धोखा; चालाकी; छल

Arabic

ایک اور وعدہ ا
سے نے کیا محبت کا
پچھلے سال بھی ایسے وعدے سے حقیقت مکری تھی

7

Download Image

مری گھر کیوں لے آتے ہوں گلی بازار کی باتیں
چڑھاتی ہیں مجھے جھوٹے انداز کہن ذائقہ کی باتیں

مکرتا ہے ہمیشہ تو کیے وعدے نبھانے سے
تری وعدے تری ق
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئیں سرکار کی باتیں

54

Download Image

نام آیا ہے تیرا جب سے گناہگاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
سب گواہ اپنی گواہی سے مکر
لگ چاہیں

35

Download Image

جاناں اپنے قول سے مکروگی تو نہیں جاناں
ہمارے سامنے جب خاندان آئیں گے

32

Download Image

حقیقت اولیں پنکھری تھی باغ کی
اور ہے وہ ہے وہ مکرند لینے آ گیا تو

32

Download Image

ہم نہیں حقیقت جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر
بلکہ پوچھےگا خدا بھی تو مکر جائیں گے

31

Download Image

سیاستدار تھے حقیقت یار فطرت تھی مکر جانا
کہ پاگل تھے لگا بیٹھے وفا کی آرزو ان سے

24

Download Image

نبیل ایسا کروں جاناں بھی بھول جاؤ اسے
حقیقت بے وجہ اپنی ہر اک بات سے مکر چکا ہے

22

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

مجھے ہی چاہتا ہے مدتوں سے ورنا پھروں
رقیب تک کے تری ہم مکرنے والے تھے

یہ ا
سے کا گھر ہے یہیں پہ کہی پہ یاروں سو
نہیں تو شہر سے کب کے نکلنے والے تھے

8

Download Image

ایک اور وعدہ ا
سے نے کیا محبت کا
پچھلے سال بھی ایسے وعدے سے حقیقت مکری تھی

7

Download Image

مری گھر کیوں لے آتے ہوں گلی بازار کی باتیں
چڑھاتی ہیں مجھے جھوٹے انداز کہن ذائقہ کی باتیں

مکرتا ہے ہمیشہ تو کیے وعدے نبھانے سے
تری وعدے تری ق
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوئیں سرکار کی باتیں

54

Download Image

مکر دھوکہ اور چالاکی کا بوجھ اٹھائے ہوتا ہے، اکثر قسمت یا افراد کی چالاکی بھری چالوں کا بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ ایک چھپے ہوئے جال کی تصویر کو ابھارتا ہے، ایک ایسا جال جو مہارت سے بچھایا گیا ہو۔ اس لفظ کا جوہر اس کی دھوکہ دہی کی فنکاری اور پھنسے ہوئے لوگوں کی بے بسی کو بیان کرنے کی صلاحیت میں ہے۔

شاعر اکثر مکر کا استعمال دھوکہ دہی اور انسانی فطرت کی چھپی ہوئی پیچیدگیوں کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ عاشق کی چالاکی یا قسمت کی غیر متوقع موڑ کو بیان کر سکتا ہے۔ یہ لفظ سچائی کے برعکس ہے، سچ اور فریب کے درمیان کے تناؤ کو اجاگر کرتا ہے۔

مکر سایوں کا رقص ہے، جہاں سچائی اور فریب ایک نازک توازن میں رقص کرتے ہیں۔