Meaning of

مہر

mehr • मेहर

سورج; مہربانی; محبت

sun; kindness; affection

सूरज; दया; स्नेह

Persian

یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری چھپتے کا
کوئی ہن
سے دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے

25

Download Image

مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی
آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی

ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں
ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی

140

Download Image

دشمنی کر م
گر اصول کے ساتھ
مجھ پر اتنی سی مہربانی ہوں

مری گاہے کا تقاضا ہے
میرا دشمن بھی خاندانی ہوں

45

Download Image

ا
سے مہرباں نظر کی عنایت کا شکریہ
تحفہ دیا ہے عید پہ ہم کو جدائی کا

44

Download Image

لگ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بے حد دیر کی مہرباں آتے آتے

42

Download Image

یہ ا
سے کی مہربانی ہے حقیقت گھر ہے وہ ہے وہ ہی سنورتی ہے
نکل آئی جو محفل ہے وہ ہے وہ تو قتل عام ہوں جائے

41

Download Image

دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں
دوستوں کی مہربانی چاہیے

29

Download Image

آئی تو یوں کہ چنو ہمیشہ تھے مہربان
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا لگ تھے

29

Download Image

لگ جانے کیسی چھپتے پ
سے رفتار چلتی ہے
ہمیشہ مری آگے آگے اک دیوار چلتی ہے

26

Download Image

حسن جب مہرباں ہوں تو کیا کیجیے
عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے

26

Download Image

یہ بھی اک رنگ ہے شاید مری چھپتے کا
کوئی ہن
سے دے تو محبت کا گماں ہوتا ہے

25

Download Image

مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی
آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی

ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں
ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی

140

Download Image

مہر کا اصل مطلب سورج ہے، جو روشنی اور گرمی کا منبع ہے۔ شاعری میں، یہ مہربانی اور محبت کی علامت بن جاتا ہے، جیسے سورج کی پرورش کرنے والی کرنیں زندگی کو برقرار رکھتی ہیں۔

شاعر اکثر 'مہر' کا استعمال محبت کی گرمی یا محبوب کی نرم مہربانی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ سخت عناصر کے برعکس، محبت کے پرورش کرنے والے پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔

مہر محبت کی نرم گرمائش کی علامت ہے، جذبات کی دنیا میں ایک دھوپ بھری آغوش۔