Meaning of

ناف

naaf • नाफ़

ناف; مرکز; جوہر

navel; center; core

नाभि; केंद्र; मूल

Arabic

بن جاتے ہیں اپنی غرض کی خاطر عاشق لوگ
مری نظر ہے وہ ہے وہ ہیں کچھ ایسے بھی منافق لوگ

3

Download Image

منہافق دوستوں سے لاکھ بہتر ہیں خدا دشمن
کہ کربل نوابوں سے حکومت چھین لیتی ہے

58

Download Image

ہم نے سوچا ہے ا
سے کے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کچھ منافع ہے ا
سے خسارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو خوابوں سے ترک کرتا تھا
کچھ لگ کچھ بات ہے تمہارے ہے وہ ہے وہ

49

Download Image

آجکل کے شاعروں جاناں شاعری تو سیکھ لو
ہے تنافر کیا شکست ناروا کیا چیز ہے

14

Download Image

منہافق کے چیلے کیے جا رہے ہیں
غضب کارنامے کیے جا رہے ہیں

نمازیں تو ان سے ادا ہوں لگ پائی
مزاروں پہ اندھیرا کیے جا رہے ہیں

8

Download Image

ب
سے ایک بار ہوں تیری نگاہ مری طرف
پھروں ا
سے کے بعد مجھے کوئی منافقوں نہیں درکار

7

Download Image

ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو تر ب تر کرنے کسی دن آئےگا بادل
لگ جانے کن غریبوں کے گھروں کو کھائےگا بادل

ستارے تم تم نوچ لاوں گا کسی دن ضد پہ آیا تو
ابھی گردش ہے وہ ہے وہ ہوں یاروں بے حد اتراے گا بادل

یہ ساری مچھلیاں جب بد دعا دینے لگیںگی تب
سمندر پیا
سے سے یوم وعدہ اور مر جائےگا بادل

کہی پر کم کہی زیادہ یہ کیسا فیصلہ تیرا
سنبھل جا سمے ہے ورنا بے حد پچھتائے گا بادل

منہافق ہے یہ راتوں کا کسی کو بھی نہیں بخشش
جوانی زلف آنکھیں اور کیا کیا کھائےگا بادل

ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں جو تجھے سر پہ چڑھاکر پھرتے رہتے ہیں
کشادہ ظرف کر لیں ہم تو کیا ٹک پائے گا بادل

7

Download Image

کیا ہے عشق تو ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ منافع کیا خسارہ کیا
فقط ہم تو اسے انعام کا عنوان دیتے ہیں

5

Download Image

اچھا تو ہے بے حد پر من سے نہیں گیا تو ہے
بھیتر گیا تو م
گر حقیقت اتنے نہیں گیا تو ہے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندھیرا کو باہر کیا ہے خود ہی
حقیقت شخص زندگی سے ایسے نہیں گیا تو ہے

4

Download Image

منافقوں کی بے حد ہی طویل تھی مختلف
جو اس کا کو پرکھا تو اک نام اور ابھر آیا

3

Download Image

بن جاتے ہیں اپنی غرض کی خاطر عاشق لوگ
مری نظر ہے وہ ہے وہ ہیں کچھ ایسے بھی منافق لوگ

3

Download Image

منہافق دوستوں سے لاکھ بہتر ہیں خدا دشمن
کہ کربل نوابوں سے حکومت چھین لیتی ہے

58

Download Image

ناف کا لفظ ناف کی نشاندہی کرتا ہے، جو زندگی اور تخلیق کا مرکزی نقطہ ہے۔ شاعری میں، یہ اپنے جسمانی معنی سے آگے بڑھ کر وجود کے جوہر، زندگی کے آغاز اور انسان کے مرکز کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ کائنات اور خودی سے تعلق کی احساس کو بیدار کرتا ہے۔

شاعر 'ناف' کا استعمال اصل اور شناخت کے موضوعات کی تلاش کے لئے کرتے ہیں۔ یہ سفر کے آغاز یا انسان کے جوہر کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ اکثر تخلیق اور زندگی کی باہمی ربط کے استعاروں میں ظاہر ہوتا ہے۔

اپنے شاعرانہ روپ میں، 'ناف' ہماری اصل اور زندگی کے اس باہمی جال کی یاد دہانی ہے جو ہم سب کو باندھتا ہے۔