Meaning of

نزاکت

najaakat • नजाकत

نزاکت; لطافت; نفاست

delicacy; elegance; subtlety

नाज़ुकता; कोमलता; सुघड़ता

Arabic

ہے وہ ہے وہ ہی نہیں کھڑا ہوا عمر دراز پر
جاناں ہے وہ ہے وہ بھی مری جان نزاکت نہیں رہی

1

Download Image

اک نزاکت سے مجھے ا
سے نے پاگل بولا
جب ہے وہ ہے وہ نے چوم لیا پیار سے ا
سے کے لب کو

71

Download Image

شرارت نزاکت ملاحت ادائیں
تری حسن ہے وہ ہے وہ ہم نے کیا کیا لگ دیکھا

8

Download Image

ابھی باقی بے حد کچھ ا
سے ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
تری خوشبو ہے پھیلی ہر دشا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کئی عاشق مرے ہیں ا
سے ہنسی پر
نزاکت ہے بے حد تیری ادا ہے وہ ہے وہ

3

Download Image

غزل ہے آتما پھروں بھی نزاکت کی ضرورت ہے
بوڑھاپو کے باندی ہے وہ ہے وہ شرارت کی ضرورت ہے

یہ دنیا جان کر بھی کچھ نہیں کرتی مری خاطر
مجھے ا
سے کی ضرورت ہے اسے مری ضرورت ہے

2

Download Image

لگ ہے حقیقت خوب رو دلکش بلا جان تو کیا
کوئی پوچھے جو کیوں ہے خاص تو کہ دوں نزاکت

2

Download Image

کبھی دی ہے وہ ہے وہ تلخی تو کبھی اشاروں کی نزاکت
کاٹ دے تری اشاروں کو کون کرےگا ایسی حماقت

1

Download Image

دل اب ب
سے کے باہر ہے جب سے دیکھی ہے ادا نزاکت ا
سے کی
لینا ہے قبضہ ا
سے کے دل پر لیکن ہے بے حد حفاظت ا
سے کی

1

Download Image

نزاکت سے نزاکت کو ہرا سکتے نہیں ہیں
دکھاوت بھی دکھاوے سے دکھانی چاہیے تھی

1

Download Image

نزاکت بھی گلوں سے کم نہیں ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
م
گر پھروں سخت بھی اتنا کہ پوچھو مت

1

Download Image

ہے وہ ہے وہ ہی نہیں کھڑا ہوا عمر دراز پر
جاناں ہے وہ ہے وہ بھی مری جان نزاکت نہیں رہی

1

Download Image

اک نزاکت سے مجھے ا
سے نے پاگل بولا
جب ہے وہ ہے وہ نے چوم لیا پیار سے ا
سے کے لب کو

71

Download Image

اصل میں، 'نزاکت' نازک خوبصورتی اور نفیس لطافت کا احساس دلاتا ہے۔ شاعری میں، یہ جذبات کی نزاکت اور خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے، جیسے ہلکی ہوا کا لمس یا پھول کی نرم پتیاں۔

شاعر 'نزاکت' کا استعمال اکثر محبت کے نرم پہلوؤں، لمحے کی لطیف باریکیوں، یا فطرت کی نازک خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ سخت الفاظ کے مقابلے میں نرم اور عارضی کو اجاگر کرتا ہے۔

نزاکت اس نرم نفاست کو مجسم کرتی ہے جسے شاعری پکڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ خوبصورتی کی سرگوشی ہے جو عارضی اور گہری دونوں ہے۔