Meaning of

نول

naval • नवल

نیا; نول; تازہ

new; novel; fresh

नया; नवीन; ताज़ा

Sanskrit

پھول شاداب آجکل کھلتے
چیت بیساکھ ہے وہ ہے وہ کنول کھلتے

1

Download Image

عصر کے سمے مری پا
سے لگ بیٹھ
مجھ پہ اک سانولی کا سایہ ہے

48

Download Image

پیار ہے وہ ہے وہ کیسی تھکن کہ کے یہ گھر سے نکلی
کرشن کی کھوج ہے وہ ہے وہ ورشبھانوللی میلوں تک

42

Download Image

آپ دستانے پہن کر چھو رہے ہیں آگ کو
آپ کے بھی خون کا رنگ ہوں گیا تو ہے سانولا

26

Download Image

مجھ کو خواہش ہے اسی شان کی دیوالی کی
لکشمی دیش ہے وہ ہے وہ الفت کی شب و روز رہے

دیش کو پیار سے محنت سے سنواریں مل کر
اہل بھارت کے دلوں ہے وہ ہے وہ یہ کنول سوز رہے

22

Download Image

جاناں جو ہنستی ہوں تو مستا
لگ کنول لگتی ہوں
میر کا شعر ہوں تاکتے کی غزل لگتی ہوں

سنگ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
سان
سے لیتا ہوا اک تاجمحل لگتی ہوں

9

Download Image

اے جاں یوں ہی جاناں کو کنول لکھ رہا ہوں
تمہارے لیے ہے وہ ہے وہ غزل لکھ رہا ہوں

7

Download Image

کوئی حسین دیوا
لگ مجھ کو لگ کر سکی
پر ایک سانولی نے پاگل بنا دیا

2

Download Image

کنول سے ہے رکھ اور ن
گرا سی ادھر ہے
خدا کی قسم تیرا مکھڑا غضب کا

1

Download Image

ا
سے محبت نے پاگل بنا رکھا ہے
آنکھوں کو خوابوں ہے وہ ہے وہ ہی لگا رکھا ہے

حقیقت ا
گر سانولی بھی ہے تو کیا ہوا
ہم نے لفظوں سے ا
سے کو سجا رکھا ہے

ظلم کی انتہا کر دی ا
سے نے م
گر
کچھ کمینوں نے سر پر اٹھا رکھا ہے

ہم غریبوں کے بھی ایک دو خواب ہیں
اپنے خوابوں نے ہم کو بچا رکھا ہے

1

Download Image

پھول شاداب آجکل کھلتے
چیت بیساکھ ہے وہ ہے وہ کنول کھلتے

1

Download Image

عصر کے سمے مری پا
سے لگ بیٹھ
مجھ پہ اک سانولی کا سایہ ہے

48

Download Image

نول لفظ صبح کی تازگی، نئی شروعات کی جوش کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ان چھوئے اور انجان کا علامت ہوتا ہے، جس میں پاکیزگی اور امکانات کا احساس ہوتا ہے۔

شاعر 'نول' کا استعمال بہار کی تصاویر، محبت کی پہلی جھلک، یا بچے کی ہنسی کی معصومیت کو پینٹ کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ تھکے ہوئے اور تھکے ہوئے کے برعکس ہوتا ہے، جو امید اور تجدید کا احساس لاتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'نول' زندگی کی لا محدود امکانات کی ایک نرم یاد دہانی ہے۔