Meaning of

نور

noor • नूर

روشنی; چمک; خوبصورتی

light; radiance; beauty

प्रकाश; चमक; सुंदरता

Arabic

بیچ بھنور سے کشتی کیسے بچ نکلی
بے حد دنوں تک دریا بھی حیران رہا

43

Download Image

ہزاروں سال نرگ
سے اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ دیدہ ور پیدا

207

Download Image

راستے ہے وہ ہے وہ پھروں وہی پیروں کا چکر آ گیا تو
جنوری گزرا نہیں تھا اور دسمبر آ گیا تو

97

Download Image

یہ زلف ا
گر کھل کے بکھر جائے تو اچھا
ا
سے رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھا

ج
سے طرح سے تھوڑی سی تری ساتھ کٹی ہے
باقی بھی اسی طرح گزر جائے تو اچھا

84

Download Image

منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
ج
ہاں بنیاد ہوں اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

57

Download Image

تری خواب سنور جائیں تو بہتر ہوگا
اپنا کیا ہے مر جائیں تو بہتر ہوگا

55

Download Image

جاناں حسن کی خود اک دنیا ہوں شاید یہ تمہیں معلوم نہیں
محفل ہے وہ ہے وہ تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے

51

Download Image

بھنور سے کیسے بچ پایا کسی پتوار سے پوچھو
ہمارا حوصلہ پوچھو تو پھروں منجھدار سے پوچھو

51

Download Image

دیا جلا کے سبھی بام و در ہے وہ ہے وہ رکھتے ہیں
اور ایک ہم ہیں اسے رہ گزر ہے وہ ہے وہ رکھتے ہیں

سمندروں کو بھی معلوم ہے ہمارا مزاج
کہ ہم تو پہلا قدم ہی بھنور ہے وہ ہے وہ رکھتے ہیں

48

Download Image

مری جنوں کا نتیجہ ضرور نکلےگا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلےگا

43

Download Image

بیچ بھنور سے کشتی کیسے بچ نکلی
بے حد دنوں تک دریا بھی حیران رہا

43

Download Image

ہزاروں سال نرگ
سے اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ دیدہ ور پیدا

207

Download Image

نور اپنی اصل میں اس پاکیزہ اور بے داغ روشنی کو ظاہر کرتا ہے جو روح کو منور کرتی ہے۔ شاعری میں، یہ اپنے لغوی معنی سے آگے بڑھ کر اس اندرونی خوبصورتی اور الہی موجودگی کو شامل کرتا ہے جو تاریکی کو روشنی میں بدل سکتی ہے۔

شاعر اکثر 'نور' کا استعمال محبوب کے چہرے یا آنکھوں کی وضاحت کے لیے کرتے ہیں، جو ایک ماورائی خوبصورتی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ امید اور روحانی بیداری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

نور اس خوبصورتی کا جوہر پکڑتا ہے جو جسمانی سے ماورا ہے، الہی کو چھوتا ہے۔