Meaning of

پناہ

panaah • पनाह

پناہ; پناہ گاہ; حفاظت

shelter; refuge; sanctuary

आश्रय; शरण; सुरक्षा

Persian

ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
پھروں یہی لوگ کہی کا نہیں رہنے دیتے

6

Download Image

آج پہلی دفع لگا مجھ کو
حقیقت ذرا بےوفا لگا مجھ کو

ب
سے بنا بات ہی بگڑتا تھا
بے پناہ ہی خفا لگا مجھ کو

81

Download Image

بے پناہ مجھ سے پھروں خفا کیوں ہے
یہ کہانی ہی ہر دفع کیوں ہے

کچھ بھی مجبوری تو نہیں دکھتی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا جانوں حقیقت بےوفا کیوں ہے

80

Download Image

دیر تک ہنستے رہے عالم پناہ
ڈر کے مارے مسخرے رونے لگے

31

Download Image

بے پناہ ہی مر گیا تو ہے حقیقت کسی کی یاد ہے وہ ہے وہ ہے وہ
بزدلوں کو عشق سے کچھ دور ہونا چاہیے

30

Download Image

تری سوا بھی کہی تھی پناہ بھول گئے
نکل کے ہم تری محفل سے راہ بھول گئے

28

Download Image

ہے قبر یوں بےچین اب مری نگاہ کو
ماں دیکھتی ہوں چنو کہ بیٹے کی راہ کو

تو ڈھونڈتا پھرتا ہے جو صحرا ہے وہ ہے وہ بستیاں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ در بدر پھرتا رہا تیری پناہ کو

26

Download Image

عمر بھر ہے وہ ہے وہ نے چاہا جسے بے پناہ
کاٹ کر عمر بھی اس کا کو پایا نہیں

26

Download Image

ملی جن سے جفائیں ان کو بھی صاحب کردار کرنا تھا
ہر اک پتھر ہوئے دل کو پناہ مہتاب کرنا تھا

ستم کیا ہے کہ خود بیزار بیٹھا ہے حقیقت لڑکا آج
جسے کل غیر کی بستی کو بھی شاداب کرنا تھا

16

Download Image

جب ملا غم مجھے عشق ہے وہ ہے وہ بے پناہ
دل کی خوشیاں میری گم شدہ ہوں گئی

ایک طرفہ محبت تھی میری یہاں
چھوڑ کر مجھ کو حقیقت بے وفا ہوں گئی

15

Download Image

ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے
پھروں یہی لوگ کہی کا نہیں رہنے دیتے

6

Download Image

آج پہلی دفع لگا مجھ کو
حقیقت ذرا بےوفا لگا مجھ کو

ب
سے بنا بات ہی بگڑتا تھا
بے پناہ ہی خفا لگا مجھ کو

81

Download Image

لفظ 'پناہ' حفاظت اور امن کی کیفیت کو بیدار کرتا ہے۔ اپنے اصل مفہوم میں، یہ ایک جسمانی یا استعاراتی جگہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں کوئی سکون اور تحفظ پاتا ہے۔ شاعری نے اس تصور کو جذباتی اور روحانی پناہ گاہوں تک بڑھا دیا ہے، جہاں روح ہنگاموں کے درمیان سکون کی تلاش کرتی ہے۔

شاعر اکثر 'پناہ' کو ہنگامے کے درمیان ایک پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ محبوب کے آغوش، فطرت کی خاموشی، یا تنہائی میں ملنے والے سکون کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ ہنگامے کے برعکس استحکام کی خواہش کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعرانہ دنیا میں، 'پناہ' امن کی ابدی تلاش کی علامت بن جاتی ہے۔ یہ ہمارے اندر اور ہمارے ارد گرد تلاش کی جانے والی پناہ گاہوں کی ایک نرم یاد دہانی ہے۔