Meaning of

قہقہے

qahqohe • क़हक़हे

قہقہہ; بلند قہقہہ

laughter; loud laughter

हँसी; ठहाका

Arabic

قہقہے اوڑھ کے جا تو رہے ہوں دوست م
گر
یہ اداسی ہے چھپائے سے نہیں چھپتی ہے

0

Download Image

ایک اس کا کو ہی پتا تھی مری عادت
حقیقت نہیں ہنستا تھا مری قہقہے پر

42

Download Image

سنائے دل کہانی اور دیکھے خاموش
یہ دھڑکن اور سارے قہقہے خاموش

کبھی جب غور سے دیکھی کوئی صورت
بشر آنکھیں سوالی لب ملے خاموش

7

Download Image

لگ حقیقت قہقہے لگ حقیقت محفلیں لگ حقیقت مختلف کی ہے رونقیں
ہوا کیا کہ دیکھتے دیکھتے یہ نصرت سارا بدل گیا تو

4

Download Image

سب سے کٹھن سوال پوچھتا ہے
ہم سے ہمارا حال پوچھتا ہے

جواب قہقہے سے نکلتے ہیں
پوچھنے والا بے مثال پوچھتا ہے

2

Download Image

قبر ہے وہ ہے وہ قہقہے ہیں اسی کی سند
بولی تھی خوش رہے تو ج
ہاں بھی رہے

1

Download Image

لبوں کو کچھ تو نئے سال قہقہے دینا
پرانی آنکھوں کو کچھ خواب اب نئے دینا

1

Download Image

دیا ہے حکم غموں نے تمام عمر شجر
وراثتوں قہقہے نہیں کریںگے

0

Download Image

قہقہے اوڑھ کے جا تو رہے ہوں دوست م
گر
یہ اداسی ہے چھپائے سے نہیں چھپتی ہے

0

Download Image

ایک اس کا کو ہی پتا تھی مری عادت
حقیقت نہیں ہنستا تھا مری قہقہے پر

42

Download Image

قہقہے کا لفظ دل سے نکلی ہوئی ہنسی کی آواز کو بیدار کرتا ہے، ایک خوشی کا دھماکہ جو فضا کو بھر دیتا ہے۔ شاعری میں، یہ بے قابو خوشی کے لمحات اور حقیقی خوشی کی متعدی فطرت کی علامت ہے۔

شاعر 'قہقہے' کا استعمال خوشی اور جشن کی روح کو پکڑنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اکثر خاموشی یا غم کے برعکس ہوتا ہے، ہنسی کی طاقت کو بلند کرنے اور جوڑنے پر زور دیتا ہے۔

شاعری میں، 'قہقہے' ہنسی کے ساتھ آنے والی ہلکی پن کی یاد دہانی ہے۔ یہ ان لمحات کا جشن مناتا ہے جب خوشی چھلکتی ہے اور ہم سب کو جوڑتی ہے۔