Meaning of

کیف

qaif • क़ैफ

نشہ; سرور

intoxication; ecstasy

मदहोशी; परमानंद

Arabic

رنج و سرور و کیف جوانی کے چار دن
کیا کیا تمہارے عشق ہے وہ ہے وہ کھوتا رہا غزال

1

Download Image

ہم سے بھی اک لڑکی ملنے آتی تھی
ہم بھی شام کو کیفے جایا کرتے تھے

38

Download Image

یہ کیفیت ہے مری جان اب تجھے کھو کر
کہ ہم نے خود کو بھی پایا نہیں بے حد دن سے

38

Download Image

جاناں نے ک
سے کیفیت ہے وہ ہے وہ مخاطب کیا
کیف دیتا رہا لفظ 'تو دیر تک

23

Download Image

روئے بغیر چارہ لگ رونے کی تاب ہے
کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے

15

Download Image

درد کی کیفیت کیسے کہ دیں
بوجھو رخسار پہ جھلمِل کیا ہے

14

Download Image

برے جاناں حال ہے وہ ہے وہ کیوں پوچھتے ہوں خیریت کیا ہے
جو مری دل ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت جانتے ہیں کیفیت کیا ہے

5

Download Image

مجرم شہرت ہے وہ ہے وہ بھی کیف و نشاط کا عالم
وشق دہر ہے وہ ہے وہ وجہ سرور ہے کوئی

4

Download Image

ب
سے ایک قیفیت ہی مسلسل سی تاری ہے
لمحات شاد ہے وہ ہے وہ بھی اداسی تو جاری ہے

3

Download Image

غضب سی کیفیت دو چار کرتا ہے
بڑی خوبصورت سے جب حقیقت پیار کرتا ہے

2

Download Image

رنج و سرور و کیف جوانی کے چار دن
کیا کیا تمہارے عشق ہے وہ ہے وہ کھوتا رہا غزال

1

Download Image

ہم سے بھی اک لڑکی ملنے آتی تھی
ہم بھی شام کو کیفے جایا کرتے تھے

38

Download Image

کیف کا لفظ خوشگوار نشے کی حالت کا اشارہ دیتا ہے، جہاں حواس تیز ہو جاتے ہیں اور حقیقت دھندلی لگتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ایک ماورائی تجربے کی علامت ہوتا ہے، ایک لمحہ جہاں روح دنیاوی سے بلند ہوتی ہے۔

شاعر کیف کا استعمال شدید جذباتی یا روحانی تجربے کے لمحات کو پکڑنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ اکثر محبت، موسیقی یا فطرت سے وابستہ ہوتا ہے، جہاں فرد کچھ عظیم تر سے گہرا تعلق محسوس کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، کیف روح کی ماورائیت کی خواہش اور خالص سرور کے لمحات میں پائی جانے والی خوبصورتی کو مجسم کرتا ہے۔