Meaning of

صدا

sada • स़दा

صوت; آواز; پکار

voice; sound; call

आवाज़; ध्वनि; पुकार

Arabic

باپ زینا ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک
ماں دعا ہے جو صدا سایہ فگن رہتی ہے

37

Download Image

رہنے کو صدا دہر ہے وہ ہے وہ آتا نہیں کوئی
جاناں چنو گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

61

Download Image

اسی کو ہم سفر کرنا پڑےگا
نہیں تو دور تک خالی سڑک ہے

56

Download Image

چھوٹی چھوٹی باتیں کر کے بڑے ک
ہاں ہوں جاؤگے
پتلی گلیوں سے نکلو تو کھلی سڑک پر آوگے

55

Download Image

عشق کی اک رنگین صدا پر برسے رنگ
رنگ ہوں مجنوں اور لیلیٰ پر برسے رنگ

47

Download Image

صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے

47

Download Image

کسی کے سائے کو قید کرنے کا ایک طریقہ بتا رہا ہوں
ایک ا
سے کے آگے چراغ رکھ دے ایک ا
سے کے پیچھے چراغ رکھ دے

ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ گیا تو اور اٹھا کے لے آیا ا
سے کی پائل
دماغ دیتا رہا صدائیں چراغ رکھ دے چراغ رکھ دے

44

Download Image

یا رب مری دعاؤں ہے وہ ہے وہ اتنا اثر رہے
پھولوں بھرا صدا مری بہنا کا گھر رہے

44

Download Image

گر کوئی مجھ سے آ کر کہتا یار اداسی ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو گلے دیکھیں گے کہتا یار اداسی ہے

ہوتا درویش ا
گر ہے وہ ہے وہ تو پھروں ساری دو پہری
گلیوں ہے وہ ہے وہ صدا دیکھیں گے کہتا یار اداسی ہے

43

Download Image

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

41

Download Image

باپ زینا ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک
ماں دعا ہے جو صدا سایہ فگن رہتی ہے

37

Download Image

رہنے کو صدا دہر ہے وہ ہے وہ آتا نہیں کوئی
جاناں چنو گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

61

Download Image

اصل میں، 'صدا' ایک آواز یا صوت کو ظاہر کرتا ہے، جو اکثر پکار یا گونج کا وزن اٹھاتا ہے۔ شاعری میں، یہ جذبات کی گونج، وقت اور جگہ کے پار پکارنے والی آواز کی مستقل موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر 'صدا' کا استعمال یاد میں رہنے والی آواز کی بھوتیا خصوصیت کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبوب کی پکار، یا ماضی کے غموں کی گونج کی علامت ہو سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'صدا' دل کی گہری پکاروں کی ابدی گونج کو پکڑتا ہے۔