Meaning of

گنگا

sahib-e-fan • साहब-ए-फ़न

فن کا ماہر; ماہر شخص

master of art; skilled person

कला का माहिर; कुशल व्यक्ति

Persian

ترکیب کیا خوجی سبھی نے پاپ دھونے کے لیے
لاکھوں کیے ہیں پاپ پر گنگا نہانا چاہیے

2

Download Image

الجھ کر کے تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ یوں آباد ہوں جاؤں
کہ چنو چھوڑنا کا ہے وہ ہے وہ امین آباد ہوں جاؤں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ یمنا کی طرح تنہا نہاروں تاج کو کب تک
کوئی گنگا ملے تو ہے وہ ہے وہ الہ آباد ہوں جاؤں

101

Download Image

مت پوچھو کتنا غمگین ہوں گنگا جی اور جمنا جی
زیادہ جاناں کو یاد نہیں ہوں گنگا جی اور جمنا جی

امروہے ہے وہ ہے وہ بان ن
گرا کے پا
سے جو لڑکا رہتا تھا
اب حقیقت ک
ہاں ہے ہے وہ ہے وہ تو وہیں ہوں گنگا جی اور جمنا جی

96

Download Image

ہوں گئی ہے پیر پہاڑ سی پگھلنی چاہیے
ا
سے ہمالیہ سے کوئی گنگا نکلنی چاہیے

47

Download Image

ا
سے کا اپنی ہی روانی پر نہیں ہے اختیار
زندگی ش
یوں کی جٹاؤں ہے وہ ہے وہ ہے گنگا کی طرح

31

Download Image

ہے وہ ہے وہ الکنندا سا ہوتا اور حقیقت منداکنی سی
پھروں کہی پر ساتھ ملتے اور گنگا ہوتے جاتے

5

Download Image

گم سوم ہوکر ج
سے کی یاد ہے وہ ہے وہ رہتی ہوں
ا
سے بن تو جاناں سب سے بعد ہے وہ ہے وہ رہتی ہوں

گنگاجل کے چنو نرمل بولی ہے
زبان کے جاناں الہ آباد ہے وہ ہے وہ رہتی ہوں

5

Download Image

ج
سے نے گنگا ہے وہ ہے وہ وضو کر کے نمازے ہیں پڑھی
حقیقت کبھی ملک کے خیرو نہیں ہوں سکتے

4

Download Image

اب خود کو روشن کرنا ہے
پت جھڑ کو ساون کرنا ہے

آنکھوں سے بہتے دریا کو
گنگا سا پاون کرنا ہے

3

Download Image

پھینک آیا جو لاش گنگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
قتل تھا خود کشی نہیں تھی حقیقت

2

Download Image

ترکیب کیا خوجی سبھی نے پاپ دھونے کے لیے
لاکھوں کیے ہیں پاپ پر گنگا نہانا چاہیے

2

Download Image

الجھ کر کے تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ یوں آباد ہوں جاؤں
کہ چنو چھوڑنا کا ہے وہ ہے وہ امین آباد ہوں جاؤں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ یمنا کی طرح تنہا نہاروں تاج کو کب تک
کوئی گنگا ملے تو ہے وہ ہے وہ الہ آباد ہوں جاؤں

101

Download Image

صاحبِ فن ایک ایسے شخص کو ظاہر کرتا ہے جو کسی فن میں مہارت رکھتا ہے۔ اپنے جوہر میں، یہ مہارت اور تخلیقیت کا جشن مناتا ہے۔ شاعری اکثر اس اصطلاح کو ان لوگوں کی عزت افزائی کے لیے بلند کرتی ہے جن کی صلاحیتیں عام سے ماورا ہیں، تخلیق کی الہی چنگاری کو پکڑتی ہیں۔

شاعر صاحبِ فن کا ذکر فنکاروں اور تخلیق کاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا استعمال غیر معمولی صلاحیتوں اور فن کی تبدیلی کی طاقت کو اجاگر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح اکثر اوسط درجے کے برعکس ہوتی ہے۔

صاحبِ فن انسانی تخلیقیت کی بے پناہ صلاحیتوں کو خراج تحسین ہے۔