Meaning of

سلیقے

saleeqe • सलीक़े

طریقے; آداب; شائستگی

manners; etiquette; decorum

तरीके; शिष्टाचार; मर्यादा

Arabic

مری مشکل کو بھی آسان کیا ہے مجھ پر
اپنی محنت کو بھی قربان کیا ہے مجھ پر

مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ سلیقے سے پکڑا کر
مری استاد نے احسان کیا ہے مجھ پر

9

Download Image

حقیقت جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اعتبار لگ کرتا تو اور کیا کرتا

105

Download Image

یوں بے ترتیب زخموں نے بتایا راز قاتل کا
سلیقے سے جو میرا قتل گر ہوتا تو کیا ہوتا

42

Download Image

مری سلیقے سے مری نبی محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ
تمام عمر ہے وہ ہے وہ ناکامیوں سے کام لیا

39

Download Image

دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی
دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی

33

Download Image

دل بھی توڑا تو سلیقے سے لگ توڑا جاناں نے
بے وفائی کے بھی صاحب کردار ہوا کرتے ہیں

32

Download Image

اب ایسے زاویے پر لو رکھی جانے لگی ہے
چراغوں کے تلے بھی روشنی جانے لگی ہے

نیا پہلو سلیقے سے بیاں کرنا پڑےگا
کہانی اب برق سے سنی جانے لگی ہے

25

Download Image

اٹھا کے لاتے ہیں صحرا سے روز خود کو ہم
بڑے سلیقے سے اک یاد چھوڑ آتی ہے

21

Download Image

مری دل کی دھڑکن بتانے لگی ہے
سلیقے سے دل کو دکھانے لگی ہے

کسی بے وجہ کو ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے جب سے
پرانی غزل یاد آنے لگی ہے

12

Download Image

لے کے سہارا سچائی کا منچوں پر
اندر کی سب راز دلالی کھول دیا

نہا جی نے امبر جی کو سلیقے سے
منا پہ یوں سرکاری عورت بول دیا

11

Download Image

مری مشکل کو بھی آسان کیا ہے مجھ پر
اپنی محنت کو بھی قربان کیا ہے مجھ پر

مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ سلیقے سے پکڑا کر
مری استاد نے احسان کیا ہے مجھ پر

9

Download Image

حقیقت جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اعتبار لگ کرتا تو اور کیا کرتا

105

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'سلیقے' ان مہذب آداب اور شائستگی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک شخص سماجی ماحول میں ظاہر کرتا ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو اپنایا ہے تاکہ انسانی تعامل کی گہرائیوں کو دریافت کیا جا سکے، جہاں شائستگی اندرونی وقار اور شرافت کا عکس بن جاتی ہے۔

شاعر اکثر 'سلیقے' کا استعمال بیرونی شائستگی اور اندرونی ہلچل کے درمیان تضاد ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ایک پرسکون بیرونی شکل کے پیچھے چھپی ہوئی بے چین روح کی تصویر پیدا کر سکتا ہے۔ یہ لفظ سادگی میں موجود خوبصورتی اور لطیف شرافت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'سلیقے' روح کی شرافت کا عکس بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی وقار بڑے اشاروں میں نہیں، بلکہ ہونے کی خاموش شائستگی میں پوشیدہ ہے۔