Meaning of

سرمایہ

sarmaaya • सरमाया

سرمایہ; دولت; وسائل

capital; wealth; resources

पूंजी; धन; संसाधन

Persian

سرمایہ دار پسند سب کو تو شیر و سخن ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اب محفلوں ہے وہ ہے وہ اپنی حقیقت جادوگری گئی

ہیں فیض غم جوانی ہے وہ ہے وہ پوچھوں عشق اور بھی
یا نوکری ملی نہیں یا نوکری گئی

0

Download Image

سرمایہ دار بے خو
گرا پہ جو ستارے تم ہیں
تیری آنکھوں کے استعارے ہیں

4

Download Image

متاع زیست مری ہے صنم عالم کا سرمایہ
فقط تیرا ہی ہوکر رہنے ہے وہ ہے وہ سبکا خسارہ ہے

3

Download Image

طنز مت کیجیے زلفوں پہ مری
مری زلفیں میرا سرمایہ ہیں

1

Download Image

دل کی دھڑکن تھے کائنات تھے تم
میری بکریاں تھے تم

1

Download Image

کبھی تنہائی کوہ و دمن عشق
کبھی سوز و سرور و انجمن عشق

کبھی سرمایہ محراب و منبر
کبھی مولا علی فتح مندی شکن عشق

1

Download Image

کہ دو اگر تقسیم سرمایہ ہوں میرے عشق کا
سب چھوڑو ب
سے سپرش ہاتھوں کا ادا کر دوگی نا

1

Download Image

سرمایہ دار پسند سب کو تو شیر و سخن ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
اب محفلوں ہے وہ ہے وہ اپنی حقیقت جادوگری گئی

ہیں فیض غم جوانی ہے وہ ہے وہ پوچھوں عشق اور بھی
یا نوکری ملی نہیں یا نوکری گئی

0

Download Image

سرمایہ دار بے خو
گرا پہ جو ستارے تم ہیں
تیری آنکھوں کے استعارے ہیں

4

Download Image

سرمایہ دولت کا جوہر ظاہر کرتا ہے، نہ صرف مادی لحاظ سے بلکہ روح اور عقل کی دولت میں بھی۔ شاعری میں، یہ اکثر اندرونی وسائل کی فراوانی کی علامت ہوتا ہے، دل اور دماغ کے خزانے۔

شاعر سرمایہ کا استعمال اندرونی دولت اور زندگی کی حقیقی دولت کے موضوعات میں گہرائی سے اترنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ روح کی غربت کے برعکس ہے، غیر مادی خزانوں کی قدر کو نمایاں کرتا ہے۔

سرمایہ حقیقی دولت کی تشکیل پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، زندگی کی غیر مادی دولت کی گہری قدر کرنے کا اصرار کرتا ہے۔